ٹرمپ کے نئے ٹیرف نے اربوں ڈالر کی تجارت کو خطرے میں ڈال دیا۔
ٹرمپ اور مارک کارنی کی متوقع ملاقات پر دنیا کی نظریں مرکوز۔
کیا شمالی امریکہ نئی تجارتی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے؟- رپورٹ : محبوب علی شیخ
امریکہ نے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر ایک ماہ بعد 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے بغیر کینیڈا زندہ نہیں رہ سکتا۔اس پر وزیر اعظم مارک کارنی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام CUSMA معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور کینیڈا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مذاکرات بھی جاری رکھے گا اور ملکی معیشت کو مزید مضبوط بھی بنائے گا۔
دوسری جانب کینیڈا کے مختلف صوبوں نے امریکہ کے خلاف متحد رہنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیرف نافذ ہوئے تو تقریباً 28 ارب ڈالر کی کینیڈین برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، اگرچہ سب سے زیادہ نقصان مخصوص صنعتوں کو پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ آئندہ ایک ماہ کے اندر متعدد کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف نافذ کرے گا۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے CUSMA کے باوجود سامنے آیا ہے، جس نے شمالی امریکہ کے تجارتی تعلقات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے کینیڈا اور وہاں کے لوگ پسند ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں زندہ رہنے کے لیے ہماری ضرورت ہے۔ ہمارے بغیر ان کے لیے بقا ممکن نہیں۔
صحافیوں نے جب سوال کیا کہ آیا جنگلات کی آگ کے دھوئیں کا اس فیصلے سے کوئی تعلق ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ اس معاملے پر الگ سے غور کیا جا رہا ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اوٹاوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے منگل کی صبح صدر ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہفتوں میں مذاکرات تیز کرنے پر اتفاق کیا۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کا نیا ٹیرف پیکیج CUSMA معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اپنی توجہ ملکی معیشت مضبوط بنانے، مقامی مصنوعات خریدنے اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی شراکت داری بڑھانے پر مرکوز رکھے گا۔
برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جہنم میں بھی ایسا کوئی امکان نہیں کہ امریکی شراب دوبارہ برٹش کولمبیا کی دکانوں میں واپس آئے۔ یاد رہے کہ البرٹا اور سسکیچیوان کے علاوہ بیشتر کینیڈین صوبوں نے امریکی شراب کی فروخت روک رکھی ہے، جو امریکی ٹیرف کے جواب میں ایک جوابی اقدام تھا۔ ڈیوڈ ایبی نے امریکہ کے بارے میں مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امریکی عوام کے لیے افسوس ہے۔ اگر کوئی ملک کینیڈا جیسا دوست کھو دے تو پھر دنیا میں اس کے لیے حقیقی دوست ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو امریکہ کے لیے “تنہائی” سے تعبیر کیا۔
وائٹ ہاؤس کی جاری کردہ فہرست کے مطابق نئے ٹیرف متعدد کینیڈین مصنوعات پر لاگو ہوں گے، جن میں شہد ، ہاکی اسٹکس ، پلائی ووڈ ، لکڑی کی مختلف مصنوعات ، سیمنٹ ، کپڑے ، گالف کا سامان، آئس اسکیٹس، ویڈیو گیم کنسولز ، ٹوائلٹ پیپر ، مختلف الکوحل مصنوعات ، دودھ اور ڈیری مصنوعات ، بعض گاڑیوں اور متعلقہ اشیاء پر اضافی محصولات شامل ہیں
اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ نئے ٹیرف تقریباً 28 ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی سالانہ برآمدات کو متاثر کر سکتے ہیں لیکن مجموعی معیشت اس دباؤ کو برداشت کر سکتی ہے، تاہم بعض مخصوص صنعتیں، خصوصاً لکڑی، خوراک اور مینوفیکچرنگ، شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔
اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے کہا کہ تمام صوبے متحد ہیں اور کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
ادھر ٹورنٹو کی میئر اولیویا چاؤ نے اعلان کیا کہ انہوں نے شہر کی اقتصادی ایکشن ٹیم دوبارہ فعال کر دی ہے تاکہ ممکنہ تجارتی اثرات سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
حالیہ سروے کے مطابق صرف 35 فیصد کینیڈین اب امریکہ کو ایک قابلِ اعتماد تجارتی شراکت دار سمجھتے ہیں، جبکہ 2022 میں یہی شرح 83 فیصد تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی بے اعتمادی کی عکاسی کرتے ہیں۔
