کینیڈا کا بھرپور جوابی وار  27.6 ارب ڈالر کے جوابی ٹیرف، 7.5 ارب ڈالر کے سپورٹ پیکیج کا اعلان

Spread the love

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی ٹیرف جنگ میں اوٹاوا نے سرخ لکیر کھینچ دی

رپورٹ: محبوب علی شیخ

کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تنازعے کے جواب میں بھرپور کارروائی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت امریکی مصنوعات پر 27.6 ارب ڈالر کے جوابی ٹیرف عائد کیے جائیں گے جبکہ کینیڈین کارکنوں اور کاروباری اداروں کے لیے 7.5 ارب ڈالر کے وسیع سپورٹ پیکیج کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

وزیرِ خزانہ فرانسوا-فلپ شیمپین اور وزیرِ صنعت میلانیا جولی نے دیگر وفاقی وزراء کے ہمراہ ان اقدامات کا اعلان کیا، کیونکہ اوٹاوا تجارتی جنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات سے کینیڈین ملازمتوں، کاروباری اداروں اور اہم صنعتی شعبوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

یہ اعلان امریکہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر عائد کیے گئے نئے ٹیرف کے بعد سامنے آیا ہے، جو اندازاً 27.6 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں کینیڈا نے ایک واضح پیغام دیا ہے:

8 ستمبر سے کینیڈا منتخب امریکی مصنوعات پر 15 فیصد، 25 فیصد اور 50 فیصد کے جوابی ٹیرف عائد کرے گا، جو امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے متعلقہ ٹیرف کی شرح کے مطابق ہوں گے۔

ان ٹیرف کا نشانہ بننے والے شعبوں میں اسٹیل، ڈیری مصنوعات، زرعی آلات، گھریلو آلات، پلپ اور کاغذ، الیکٹرانکس اور دیگر مصنوعات شامل ہیں 

جوابی ٹیرف کے علاوہ، اوٹاوا نے ایک بڑے مالیاتی سپورٹ پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے، جس کا مقصد بڑھتے ہوئے تجارتی تنازعے سے پیدا ہونے والی معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران کینیڈین کارکنوں، آجروں اور کاروباری اداروں کی مدد کرنا ہے۔

اس پیکیج میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے 1.5 ارب ڈالر،  کاروباری لیکویڈیٹی سپورٹ کے لیے 500 ملین ڈالر،  کینیڈا اسٹرونگ ڈائیورسیفیکیشن فنڈ کے ذریعے 2 ارب ڈالر،  کارکنوں اور آجروں کے لیے فوری امدادی اقدامات کی مد میں 3.5 ارب ڈالرشامل ہیں 

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کاروباری اداروں کو نقد رقم کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا، کینیڈین ملازمتوں کا تحفظ کرنا، متاثرہ کارکنوں کی معاونت کرنا اور طویل المدتی بنیادوں پر کینیڈا کی معاشی مسابقت کو مضبوط بنانا ہے۔

اوٹاوا نے ٹیرف سے متعلق بزنس ڈویلپمنٹ بینک آف کینیڈا کے بعض پروگراموں کے لیے کم از کم آمدنی کی شرط بھی کم کرکے 10 لاکھ ڈالر کر دی ہے، جس کے نتیجے میں مزید کینیڈین کاروباری اداروں کے لیے مالی معاونت حاصل کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ ملک نے اس تجارتی تنازعے کا انتخاب نہیں کیا، لیکن اوٹاوا اپنے معاشی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

وفاقی حکومت کا مؤقف واضح ہے: کینیڈا کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو کینیڈین کارکنوں، کاروباری اداروں، اہم صنعتی شعبوں یا ملک کے قومی مفادات کو نقصان پہنچائے۔

اوٹاوا اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی مذاکرات بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، اور کینیڈا اب دو محاذوں پر اپنی معاشی جنگ لڑنے کی تیاری کر رہا ہے جسمیں امریکی مصنوعات کے خلاف جوابی ٹیرف اور متاثرہ افراد کے لیے اربوں ڈالر کی ملکی مالی معاونت کے ذریعےشاملُ ہے 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے