ہم نے بھی اِس ملک میں کیا کیا’سیاسی تماشے‘ لگائے ہیں جسکی مثالیں شاید ہی دنیا ئے سیاست میں ملتی ہیں، کسی کو سیاست سے مائنس کردو تو کسی کی سیاست ہی مائنس کردو۔ مقبول جماعتوں اور رہنماؤں کی عمر کم ہوتی جارہی ہے جبکہ ’فیصلہ سازوں‘ کے فیصلے نام نہاد جمہوری سمت کا تعین کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس سے ہر چیز ممکن ہے ماسوائے جمہوریت اور آئین و قانون کی بالادستی کے۔ آج جو کچھ اسلام آباد میں ہورہا ہے اس کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا یہ کہنا قبل از وقت ہے البتہ بادی النظر میں ایک اور مقبول لیڈر کو مائنس کرنے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اب بات کہاں جاکر رکے گی کہہ نہیں سکتا تاہم ’جلاوطنی‘ شاید قبول نہ ہو جس طرح ماضی میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ترکی سیاسی پناہ دینے کو تیار تھا، فارمولہ بی تیار تھا 10سال تک سیاست نہ کرنے کا مگر اس نے کہا میں تاریخ کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا، تاریخ کے ہاتھوں مرنے سے بہتر آمر کے ہاتھوں مرجایا جائے۔
ویسے تو ہماری سیاست میں پابندیوں کے بھی اپنے اپنے انداز رہے ہیں اگر کوئی جلاوطن نہیں ہوا تو صوبہ بدر کردیا گیا، شہر بدر کردیا گیا۔ انگریزوں کے زمانے کے وہ قوانین ’تحریک آزادی‘ کو کچلنے کیلئے بنائے گئے تھے مگر ہم آج تک 1861ءمیں رہ رہے ہیں۔ ان قوانین کا نشانہ نہ صرف سیاستدان بلکہ شاعر و ادیب اور صحافی بھی بنے۔ اس میں بڑا نام جناب ایم اے شکور کا ہے جو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے بانی تھے اور انگریزی اخبار ڈان سے وابستہ رہے، اپنے بائیں بازو کے نظریے کی بنا پر 50کی دہائی میں سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے،چند سال جیل میں رہنے کے بعد اُنہیں نوکری سے برخاست کردیا گیا اور روزگار کے دروازے بند کردیئے گئے جسکے بعد وہ لندن چلے گئے اور وہاں تعلیم و تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ پاکستان کا جن لوگوں نے دنیا میں نام روشن کیا بین الاقوامی ایوارڈز جیتے وہ ’جلا وطن‘ ہی رہے اگر کسی کیلئے اپنی ہی سرزمین تنگ کردی جائے تو وہ ملک بدری ہی تصور ہوگی۔ پاکستان میں سب سے پہلے جس جماعت پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی وہ ’کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان‘ تھی ویسے تو وہ جماعت پر پابندی تھی مگر دراصل وہ بائیں بازو کے نظریہ پر پابندی تھی اور ایسے نظریے کے پیرو کاروں پر تھی جو کبھی نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کی شکل میں سامنے آئی تو کبھی جام ساقی کیس کی شکل میں، ایسے میں کئی بائیں بازو کے نظریات سے جڑے لوگوں نے اپنی اپنی قید وبند کے بعد ’جلا وطنی‘ اختیار کرلی۔ کمیونسٹ پارٹی کے پہلے سیکرٹری جنرل سجاد ظہیر کی مثال ذرا مختلف ہے۔ وہ بھارت سے وہاں کی پارٹی کی ہدایت پر کچھ ساتھیوں کیساتھ پاکستان میں پارٹی بنانے کیلئے بھیجے گئے۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آ ف انڈیا نے قیام پاکستان کی حمایت کی تھی جبکہ دائیںبازو کی بڑی مذہبی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے ہند کو تحفظات تھے اور ابتدا میں وہ مخالف رہے۔ مگر ہوا کچھ یوں کے پاکستان بننےکے بعد ’حمایت‘ کرنے والوں کیلئے قید اور مخالفت کرنیوالوں کیلئے ’آزادی‘ لہٰذا سجاد ظہیر پانچ سال جیل میں رہنے کے بعد واپس بھارت چلے گئے کیونکہ آنیوالے وقت میں انہیں بائیں بازو خاص طور پر کمیونسٹ پارٹی کے لوگوں کیلئے صرف قید وبند ہی نظر آرہی تھی۔ ایک لمبی فہرست ہے شاید آج کے لوگ اُن ناموں سے واقف بھی نہ ہوں مثلاً کمیونسٹ رہنما قادر بخش نظامانی، اکبر بارک زی، ایک زمانے میں بی بی سی اردو سروس کیلئے تقسیم سے پہلے کام کرنیوالے صحافی افضل بھی بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے پاکستان مستقل رہنے کیلئے آئے مگر چند سال جیل میں رہنے کے بعد ’جلا وطنی‘ اختیار کی اور پھر دوبارہ نہیں آئے۔ خان آف قلات کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ کئی بلوچ اور خاص طور پر پشتون رہنماؤں نے نیپ پر پابندی کے بعد ’جلاوطنی‘ کیلئے کابل کا رُخ کیا جن میں ایک بڑا نام اجمل خٹک کا ہے۔ ہماری ریاستی پالیسی کے جو نتائج آج ہمارے سامنے آرہے ہیںخاص طور پر کے پی میں اسکی بڑی وجہ وہ بیانیہ تھا جس میں نیپ جیسی سیاسی جماعت پر پابندی اور طالبان کی نہ صرف تشکیل بلکہ سرپرستی بھی شامل رہی۔اب وہی ہمارے سب سےبڑے مخالف بنکر سامنے آرہے ہیں۔ 2013کا الیکشن اسکی بدترین مثال ہے جب عوامی نیشنل پارٹی کے کئی رہنما اور کارکن شہید کردئے گئے اور تحریک انصاف سے لے کر مسلم لیگ (ن) تک مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔
