3 نومبر کے انتخابات پر واشنگٹن کے ساتھ کینیڈا کی بھی نظریں مرکوز؛ ٹیرف، تجارت اور اقتصادی تعلقات کے مستقبل کا فیصلہ نئی کانگریس کے کردار سے جڑا ہوگا
رپورٹ: محبوب علی شیخ
امریکا میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آئندہ دو برسوں کے لیے سیاسی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ انتخابی نتائج یہ طے کرنے میں اہم ہوں گے کہ کانگریس میں ری پبلکن پارٹی اپنی اکثریت برقرار رکھتی ہے یا ڈیموکریٹس طاقت کا توازن تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
ان انتخابات کی اہمیت صرف امریکی داخلی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات، درآمدی محصولات (ٹیرف)، صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری اور سرحد پار کاروبار پر بھی ان کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی آئینی نظام میں کانگریس قانون سازی، وفاقی اخراجات کی منظوری اور انتظامیہ کی نگرانی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس وقت ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے، تاہم ایوانِ نمائندگان میں اس کی برتری محدود ہے۔
14 اکتوبر کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکنز کی 218، ڈیموکریٹس کی 214 اور ایک آزاد رکن کی نشست تھی، جبکہ دو نشستیں خالی تھیں۔ سینیٹ میں ری پبلکنز کو 53 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کی 45 اور ان کے ساتھ کام کرنے والے آزاد ارکان کی دو نشستیں ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس انتخابات میں ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو صدر ٹرمپ کے لیے قانون سازی کا عمل زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ حکومتی اخراجات، وفاقی پالیسیوں اور انتظامیہ کے اقدامات پر کانگریس کی نگرانی بھی مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔
تاہم یہ انتخابات صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت ختم نہیں کریں گے۔ امریکی صدارتی انتخاب 2028 میں ہوگا، جبکہ نومبر 2026 کے نتائج کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان سیاسی طاقت کے توازن کو متاثر کریں گے۔
کینیڈا اور امریکا کی معیشتیں گہرے تجارتی اور صنعتی روابط رکھتی ہیں۔ آٹوموبائل، اسٹیل، ایلومینیم، توانائی، زراعت اور مختلف صنعتی مصنوعات کی سرحد پار نقل و حرکت دونوں ممالک کے کاروبار اور روزگار کے لیے اہم ہے۔
امریکی تجارتی پالیسی میں تبدیلی یا غیر یقینی صورتحال کینیڈین برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے اخراجات بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح اضافی ٹیرف خام مال کی قیمتوں، پیداواری لاگت اور صارفین کے لیے مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
کینیڈا میں کاروباری حلقوں کی توجہ اس بات پر ہے کہ انتخابات کے بعد واشنگٹن میں تجارتی پالیسیوں کی نگرانی کس انداز میں ہوگی اور کیا نئی کانگریس امریکی انتظامیہ کے ٹیرف اقدامات پر مؤثر دباؤ ڈال سکے گی۔
یہ اس انتخاب کا ایک اہم سوال ہے، لیکن اس کا جواب اتنا سادہ نہیں۔اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ تجارتی پالیسیوں پر سماعتیں منعقد کر سکتے ہیں، متعلقہ دستاویزات طلب کر سکتے ہیں اور انتظامیہ کے ٹیرف اقدامات پر سوالات اٹھا سکتے ہیں۔ کانگریس بعض تجارتی اختیارات کے دائرے کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کی کوشش بھی کر سکتی ہے۔
تاہم کسی جماعت کی انتخابی کامیابی سے صدر کے عائد کردہ تمام ٹیرف خودبخود ختم نہیں ہوں گے۔ قانون سازی کو متعلقہ آئینی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اگر صدر کسی بل کو ویٹو کر دیں تو اسے مسترد کرنے کے لیے کانگریس میں درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنا بھی ضروری ہو سکتا ہے۔
اس لیے کینیڈا کو حقیقی تجارتی ریلیف ملنے کا انحصار صرف انتخابی نتائج پر نہیں، بلکہ نئی کانگریس کے اقدامات، قانونی اختیارات اور امریکی انتظامیہ کے ردعمل پر بھی ہوگا۔
صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسی پر بحث صرف ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان اختلاف تک محدود نہیں۔ کینیڈا کے ساتھ مضبوط اقتصادی روابط رکھنے والی امریکی ریاستوں میں ٹیرف کے ممکنہ اثرات بھی سیاسی گفتگو کا حصہ ہیں۔
مشی گن، نیو ہیمپشائر اور مین جیسی ریاستوں میں سرحد پار تجارت، صنعتی پیداوار اور صارفین کے اخراجات جیسے معاملات انتخابی اہمیت رکھتے ہیں۔ اضافی تجارتی محصولات سے کاروبار کی لاگت بڑھنے کے خدشات بعض امیدواروں کے لیے سیاسی چیلنج بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ ٹیرف کو امریکی صنعتوں کے تحفظ اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف اقدام قرار دیتی ہے۔
یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی تجارتی پالیسی کا مستقبل مختلف سیاسی، صنعتی اور معاشی مفادات کے درمیان توازن سے جڑا ہوا ہے۔
شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے، جسے امریکا میں USMCA اور کینیڈا میں CUSMA کہا جاتا ہے، کا مستقبل بھی کینیڈا کے لیے اہم ہے۔ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان اس معاہدے کے تحت تجارتی تعلقات، صنعتی سپلائی چین اور کاروباری سرگرمیاں منسلک ہیں۔
معاہدے کے مستقبل سے متعلق جائزے اور مذاکرات آئندہ برسوں میں تجارتی پالیسی کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس عمل میں امریکی کانگریس کی سیاسی ترجیحات کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ، کینیڈین حکومت اور میکسیکو کے مؤقف بھی اہم ہوں گے۔
اگر تجارتی غیر یقینی صورتحال برقرار رہتی ہے تو کمپنیاں اپنی سپلائی چین تبدیل کرنے، سرمایہ کاری مؤخر کرنے یا پیداواری اخراجات کم کرنے کے لیے نئے اقدامات کر سکتی ہیں۔ اس کے برعکس تجارتی قواعد میں استحکام کاروباری اداروں کو طویل مدتی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتا ہے۔
اگر ری پبلکن پارٹی دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھتی ہے تو صدر ٹرمپ کو اپنے قانون سازی کے ایجنڈے پر آگے بڑھنے کے لیے نسبتاً سازگار سیاسی ماحول میسر رہ سکتا ہے۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو حکومتی نگرانی، بجٹ سے متعلق مذاکرات اور قانون سازی میں اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر دونوں ایوانوں میں مخالف جماعت کو اکثریت ملتی ہے تو وائٹ ہاؤس کو متعدد معاملات پر زیادہ مذاکرات اور سمجھوتوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
اس کے باوجود صدر کے انتظامی اختیارات ختم نہیں ہوں گے۔ امریکی نظام میں کانگریس، صدر اور عدلیہ اپنے اپنے آئینی دائرہ اختیار کے تحت کام کرتے ہیں۔
کینیڈین مبصرین اور کاروباری حلقوں کے لیے اصل اہمیت صرف اس بات کی نہیں ہوگی کہ کون سی جماعت زیادہ نشستیں حاصل کرتی ہے، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ اکثریت کتنی مضبوط ہے، نئی کانگریس کی تجارتی ترجیحات کیا ہیں اور امریکی انتظامیہ ان تبدیلیوں پر کس طرح ردعمل دیتی ہے۔
خصوصاً ٹیرف، صنعتی تجارت، توانائی، سرحد پار سپلائی چین اور USMCA/CUSMA سے متعلق فیصلے کینیڈا کے لیے اہم رہیں گے۔
نتیجہ: 3 نومبر 2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا فیصلہ نہیں کریں گے، لیکن ان کی باقی مدت کے دوران سیاسی طاقت کا توازن ضرور تبدیل کر سکتے ہیں۔ کینیڈا کے لیے ان انتخابات کی اصل اہمیت اس بات میں ہوگی کہ آیا واشنگٹن میں نئی سیاسی صورتِ حال تجارتی کشیدگی کم کرنے، کاروباری اعتماد بحال کرنے اور امریکا کینیڈا اقتصادی تعلقات میں استحکام پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے یا نہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد بھی حتمی تصویر نئی کانگریس کے فیصلوں، امریکی انتظامیہ کے اقدامات اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کی پیش رفت سے واضح ہوگی
