خواتین میں ہارٹ اٹیک کی خاموش علامت جسے 70 فیصد خواتین نظر انداز کر دیتی ہیں

Spread the love

خواتین میں دل کے دورے کی علامات اکثر واضح نہیں ہوتیں جس کے باعث تشخیص اور علاج میں تاخیر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 

ماہرین کے مطابق غیر معمولی اور بلاوجہ تھکن دل کے مسائل کی ایک اہم ابتدائی علامت ہو سکتی ہے جو بعض اوقات دل کے دورے سے کئی ہفتے پہلے ظاہر ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق خواتین میں دل کی بیماری کی تشخیص اکثر تاخیر سے ہوتی ہے حالانکہ یہ اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، خواتین میں دل کے دورے کی علامات مردوں سے مختلف ہو سکتی ہیں اور ان علامات کو اکثر ذہنی دباؤ، گھبراہٹ، معدے کی خرابی، عمر بڑھنے یا ہارمونز میں تبدیلی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

خواتین میں دل کے دورے کی ممکنہ ابتدائی علامات میں سانس پھولنا، سینے میں دباؤ یا بے آرامی، جبڑے، گردن، کندھے، کمر یا بازو میں درد، چکر آنا، ٹھنڈا پسینہ، متلی یا بد ہضمی جیسی کیفیت اور نیند میں خلل شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی، تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمی کی کمی، خاندانی تاریخ، سنِ یاس اور غیر متوازن خوراک دل کے دورے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

اگر کسی خاتون کو اچانک سینے میں تکلیف، شدید اور غیر معمولی تھکن، سانس لینے میں دشواری یا درد جبڑے، بازو، گردن یا کمر تک پھیلنے کی شکایت ہو اور یہ علامات چند منٹ سے زیادہ برقرار رہیں تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

دل کے دورے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے متوازن اور دل کے لیے مفید غذا، باقاعدہ ورزش، تمباکو نوشی سے پرہیز، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا، ذیابیطس کا مناسب علاج، پوری نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور باقاعدہ طبی معائنہ ضروری ہے۔

طبی ماہرین کا خواتین کے لیے پیغام ہے کہ بلاوجہ یا غیر معمولی تھکن کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ سانس پھولنے یا سینے میں بے آرامی جیسی علامات بھی موجود ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے