خون کی کمی سے ڈیمنشیا کا خطرہ 66 فیصد زیادہ ہوجاتا ہے، تحقیق

Spread the love

خون کی کمی میں مبتلا معمر افراد میں ڈیمنشیا (دماغی کمزوری اور یاداشت کھونے کی بیماری) لاحق ہونے کا خطرہ 66 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ 

ڈیمنشیا ایک ذہنی تنزلی کی بیماری ہے جس سے دماغی صلاحیتوں میں کمی واقعہ ہوتی ہے۔ یہ دماغ کے بافتوں میں بیٹا امائلائیڈ پروٹینز کے جمع ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خون میں ڈیمنشیا سے متعلق پروٹینز، جیسے فاسفوریلیٹڈ ٹاؤ 207 پروٹین اور گلیئل فائبرلری ایسڈک پروٹین، کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس سے خون کے ٹیسٹ کے ذریعے ممکنہ طور پر اس بیماری کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔تقریباً 10 فیصد معمر افراد خون کی کمی مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مفروضہ پیش کیا گیا ہے کہ مسلسل خون کی کمی دماغ کے سکڑنے، سفید مادے  میں تبدیلیوں اور بالآخر ڈیمنشیا کا سبب بن سکتی ہے۔ 

سوئیڈن کے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کی ایک تحقیقی ٹیم جو طب کے نوبل انعام کا فیصلہ کرتی ہے اس نے حال ہی میں ڈیمنشیا کے کیسز پر خون کی کمی کے اثرات کا جائزہ لیا اور اپنے نتائج جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں شائع کیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے