دنیا کے امیر بھی نقلی برانڈز کے دیوانے نکلے

Spread the love

صرف غریب نہیں ارب پتی اور امیر طبقہ بھی دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کی بجائے نقلی بیگز ، گھڑیاں ، جوتے ، ملبوسات خرید رہا ہے

سنگاپور کی تحقیق نے لگژری مارکیٹ کا سب سے بڑا راز بے نقاب کر دیا!

 آن لائن تجارت اور عالمی ای کامرس پلیٹ فارمز نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا 

رپورٹ: محبوب علی شیخ

کیا دنیا بھر کے لوگ صرف دکھاوے کے لیے ہزاروں ڈالر کے لگژری برانڈز خریدتے ہیں؟ یا پھر حقیقت اس سے کہیں زیادہ حیران کن ہے؟

سنگاپور کی نئی تحقیق نے ایک ایسا انکشاف کر دیا ہے جس نے عالمی لگژری مارکیٹ، آن لائن تجارت اور صارفین کے رویّوں پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تحقیق کے مطابق جعلی لگژری مصنوعات صرف کم آمدنی والے افراد ہی نہیں بلکہ زیادہ دولت رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں خرید رہے ہیں۔ حیران کن طور پر امیر صارفین اعلیٰ معیار کی ایسی نقلی مصنوعات خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں جو دیکھنے میں اصل سے تقریباً ناقابلِ شناخت ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان صرف پیسے بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ سماجی حیثیت، نفسیاتی دباؤ، دوسروں پر اثر ڈالنے اور معاشرتی شناخت سے بھی جڑا ہوا ہے۔

آن لائن تجارت اور عالمی ای کامرس پلیٹ فارمز نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اب چند کلکس میں دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کے نقلی بیگز، گھڑیاں، جوتے اور ملبوسات گھر بیٹھے دستیاب ہیں

سنگاپور کی ایک نئی تحقیق کے مطابق جعلی لگژری مصنوعات صرف کم آمدنی والے افراد ہی نہیں بلکہ زیادہ آمدنی رکھنے والے صارفین بھی بڑی تعداد میں خرید رہے ہیں۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ امیر صارفین خاص طور پر ہرمیس اور شینل جیسے مہنگے برانڈز کی اعلیٰ معیار کی نقلی مصنوعات کو ترجیح دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان صرف پیسے کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ سماجی حیثیت، نفسیاتی عوامل اور دوسروں پر اثر ڈالنے کی خواہش سے بھی جڑا ہوا ہے، جبکہ آن لائن تجارت نے جعلی مصنوعات تک رسائی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے

کینیڈا ، امریکہ ، بھارت،  پاکستان ، یورپ سمیت دیگر ممالک میں آن لائن خریداری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور چائنیز مارکیٹ میں دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کی سستے داموں نقلی ( copy  ) کی بھرمار ہے جسے سوشل میڈیا مارکیٹنگ، غیر ملکی ویب سائٹس اور کراس بارڈر شپنگ نے صارفین کو دنیا بھر کی مصنوعات تک رسائی فراہم کر دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو صرف کم قیمت دیکھ کر خریداری نہیں کرنی چاہیے بلکہ مصنوعات کی اصلیت، معیار اور قانونی حیثیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کیونکہ جعلی مصنوعات نہ صرف برانڈ مالکان کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ بعض اوقات صارفین کے لیے معیار اور حفاظت کے مسائل بھی پیدا کر سکتی ہیں۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ جعلی یا نقلی لگژری اشیاء صرف وہ لوگ خریدتے ہیں جو اصل برانڈز خریدنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے۔ تاہم سنگاپور کی معروف تحقیقی درسگاہ National University of Singapore کے محققین کی تازہ تحقیق نے اس تصور کو یکسر بدل دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق نہ صرف کم آمدنی والے افراد بلکہ زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں نقلی لگژری مصنوعات خرید رہے ہیں۔ حیران کن طور پر درمیانی آمدنی والے صارفین اس رجحان میں نسبتاً کم شامل پائے گئے۔

مطالعے میں لاکھوں امریکی صارفین کی خریداریوں کا تجزیہ کیا گیا جن میں Hermès، Chanel اور دیگر عالمی شہرت یافتہ برانڈز کی نقلی مصنوعات شامل تھیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ کم آمدنی والے افراد نسبتاً کم قیمت والے لگژری برانڈز کی نقلی مصنوعات خریدتے ہیں، جبکہ زیادہ دولت مند افراد انتہائی مہنگے برانڈز کے اعلیٰ معیار کے نقلی ورژن خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بین الاقوامی ای کامرس پلیٹ فارمز نے جعلی مصنوعات کی دستیابی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

آج دنیا کے کسی بھی حصے میں بیٹھا صارف چند کلکس کے ذریعے دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کے نقلی ہینڈ بیگ، گھڑیاں، جوتے، ملبوسات اور دیگر لگژری اشیاء خرید سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر جعلی مصنوعات کی مارکیٹ مسلسل پھیل رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق امیر صارفین اکثر ایسی نقلی مصنوعات خریدتے ہیں جو ظاہری طور پر اصل مصنوعات سے تقریباً مماثلت رکھتی ہیں اور جنہیں عام افراد آسانی سے پہچان نہیں سکتے۔

تحقیق کے مرکزی مصنفین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان صرف معاشی مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی عوامل سے بھی جڑا ہوا ہے۔

لوگ اکثر معاشرتی مقام، سماجی قبولیت، دوسروں پر تاثر قائم کرنے اور اپنی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے لگژری برانڈز کا سہارا لیتے ہیں۔ جب اصل مصنوعات انتہائی مہنگی ہوں تو بعض افراد نقلی مصنوعات کے ذریعے بھی وہی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنیاں یہ سمجھتی رہیں کہ صرف کم آمدنی والے افراد ہی نقلی مصنوعات خریدتے ہیں تو وہ اس مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنے میں ناکام رہیں گی۔

ان کے مطابق جعلی اشیاء کی طلب معاشرے کے مختلف معاشی طبقات میں موجود ہے، لہٰذا برانڈ مالکان، کسٹمز حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی حکمت عملی ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگی۔

یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جعلی لگژری اشیاء کی خریداری صرف مالی کمزوری کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات، سماجی دباؤ اور معاشرتی شناخت سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔

آج کے دور میں برانڈ صرف ایک چیز نہیں بلکہ ایک سماجی علامت بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے افراد، خواہ وہ مالی طور پر کمزور ہوں یا خوشحال، بعض اوقات اسی علامت تک پہنچنے کے لیے نقلی متبادل کا انتخاب کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج برانڈ صرف ایک چیز نہیں رہا  یہ معاشرتی طاقت، شناخت اور اثر و رسوخ کی علامت بن چکا ہے… اور اسی دوڑ میں لوگ اصل اور نقل کے درمیان حدیں مٹاتے جا رہے ہیں۔

سوال اب یہ نہیں کہ جعلی چیزیں کون خریدتا ہے سوال یہ ہے کہ لوگ مہنگے ترین برانڈز کی  بجائے نقلی یعنی ( برانڈز کی کاپی )  کیوں خرید رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے