رپورٹ : محبوب علئ شیخ
عالمی فضائی صنعت میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی دوڑ شدت اختیار کر گئی ہے جہاں ایلون مسک کی Starlink نے جیف بیزوس کی Amazon Leo پر واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ 2026 کے دوران Starlink نے مزید 11 ایئر لائنز کے ساتھ معاہدے کیے ہیں جبکہ ہزاروں طیارے پہلے ہی اس نیٹ ورک سے منسلک ہو چکے ہیں۔
دنیا بھر کی ایئر لائنز اب صرف سستی ٹکٹوں یا آرام دہ نشستوں کے ذریعے مسافروں کو متوجہ نہیں کر رہیں بلکہ تیز رفتار ان فلائٹ وائی فائی بھی ایک اہم مسابقتی ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔ اسی میدان میں دنیا کے دو ارب پتی کاروباری شخصیات، ایلون مسک اور جیف بیزوس، آمنے سامنے آ چکے ہیں۔
اس وقت SpaceX کی Starlink سروس واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہے جبکہ Amazon اپنی Leo سیٹلائٹ سروس کے ذریعے مارکیٹ میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایوی ایشن انٹیلی جنس فرم Valour Consultancy کے مطابق Starlink نے صرف 2026 کے دوران دنیا بھر میں 11 نئی ایئر لائنز کو اپنا صارف بنایا ہے۔ اس سے پہلے 2025 میں 22 جبکہ 2024 میں 8 ایئر لائنز اس نیٹ ورک سے منسلک ہوئی تھیں۔
ماہرین کے مطابق Starlink کی کامیابی کا راز اس کے ہزاروں Low Earth Orbit (LEO) سیٹلائٹس ہیں جو روایتی جیو اسٹیشنری سیٹلائٹس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رفتار فراہم کرتے ہیں۔
ماضی میں دورانِ پرواز انٹرنیٹ اکثر مہنگا، سست اور غیر یقینی معیار کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ سفری ٹیکنالوجی کمپنی Amadeus کے صدر Decius Valmorbida کے مطابق تیز رفتار انٹرنیٹ اب عیاشی نہیں بلکہ ہر ایئر لائن کی بنیادی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ ایئر لائنز سمجھتی ہیں کہ بہتر انٹرنیٹ سروس زیادہ پریمیم مسافروں کو متوجہ کر سکتی ہے، وفاداری پروگرام مضبوط بنا سکتی ہے اور اضافی آمدنی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔
Starlink یا Amazon Leo جیسی سیٹلائٹ براڈبینڈ سروس نصب کرنا کوئی معمولی منصوبہ نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صرف American Airlines کے بیڑے میں Starlink نصب کرنے پر 150 سے 250 ملین امریکی ڈالر تک خرچ آسکتا ہے، جبکہ سالانہ سروس فیس 60 ملین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ اخراجات ظاہر کرتے ہیں کہ فضائی صنعت مستقبل کی مسابقت کے لیے کتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہے۔
تحقیقی ادارے Analysys Mason کے ماہر Lluc Palerm کے مطابق فضائی وائی فائی کا میدان آنے والے برسوں میں Starlink اور Amazon Leo کے درمیان ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔
تاہم Starlink کو اس وقت نمایاں برتری حاصل ہے کیونکہ 7,000 سے زائد طیارے Starlink کے معاہدوں کے تحت آ چکے ہیں۔
* سیٹلائٹ نیٹ ورک پہلے سے فعال اور وسیع ہے۔
* تنصیب نسبتاً آسان اور تیز ہے۔
* ایئر لائنز ایک بار سسٹم نصب کرنے کے بعد آسانی سے فراہم کنندہ تبدیل نہیں کرتیں۔
Amazon ابھی اپنی Leo سیٹلائٹ کانسٹیلیشن مکمل طور پر تعمیر کر رہا ہے۔ مزید برآں، گزشتہ ماہ Blue Origin راکٹ میں پیش آنے والی ناکامی نے بھی بعض ماہرین کو Amazon کی پیش رفت کے بارے میں محتاط کر دیا ہے۔
اس کے باوجود Delta Air Lines اور JetBlue Airways جیسے بڑے نام Amazon Leo کے ساتھ معاہدے کر چکے ہیں۔
Amazon کا مؤقف ہے کہ وہ صرف انٹرنیٹ ہی نہیں بلکہ Cloud Computing، Entertainment اور Retail Ecosystem کو بھی ایئر لائنز کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
Ryanair کے چیف ایگزیکٹو Michael O’Leary نے Starlink کو اپنانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی لاگت اور اینٹینا کے اضافی وزن سے ایندھن کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
اس بیان کے بعد ایلون مسک اور Ryanair کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ بھی دیکھنے میں آئی۔
آج کی ایئر لائنز کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ صرف فلمیں دیکھنے یا پیغامات بھیجنے تک محدود نہیں رہا۔ اب یہ سہولت:
* وفاداری پروگراموں کو فروغ دیتی ہے۔
* کریڈٹ کارڈز اور اپ گریڈز کی فروخت بڑھاتی ہے۔
* مسافروں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
* پرواز کے بعد بھی صارفین سے تعلق برقرار رکھتی ہے۔
تحقیقی جریدے Journal of Air Transport Management کی 2025 کی تحقیق کے مطابق وائی فائی دستیاب ہونے سے مخصوص روٹس پر مسافروں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔
فی الحال Starlink واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہے اور SpaceX کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی یہی سروس بن چکی ہے۔
2025 میں SpaceX کی کل 18.67 ارب ڈالر آمدنی میں سے 11.4 ارب ڈالر صرف Starlink سے حاصل ہوئے۔ تاہم Amazon کی وسیع ٹیکنالوجی طاقت اور مالی وسائل کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مقابلہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ آنے والے برسوں میں مزید شدت اختیار کرے گا۔
فضائی صنعت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں تیز رفتار انٹرنیٹ سیٹ کی آرام دہ جگہ یا مفت کھانے سے بھی زیادہ اہم سہولت بنتا جا رہا ہے۔
ایلون مسک کی Starlink اس وقت مارکیٹ کی سب سے مضبوط قوت ہے، لیکن جیف بیزوس کی Amazon Leo بھی میدان میں موجود ہے۔ آنے والے چند سال یہ طے کریں گے کہ دنیا کے لاکھوں فضائی مسافر دورانِ پرواز کس کمپنی کے انٹرنیٹ سے منسلک ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں تیز رفتار ان فلائٹ وائی فائی ہر بڑی ایئر لائن کی بنیادی ضرورت بن جائے گی۔ اگرچہ Amazon بھی Delta اور JetBlue جیسی ایئر لائنز کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تاہم فی الحال Starlink عالمی فضائی انٹرنیٹ مارکیٹ کی سب سے مضبوط قوت تصور کی جا رہی ہے۔
