واشنگٹن میں ڈگ فورڈ کا نیا سفارتی محاذ فورٹریس نارتھ امریکہ

Spread the love

 ملاقات میں شمالی امریکہ میں “ٹیرف فری ٹریڈ” یعنی محصولات سے پاک تجارت کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا

 رپورٹ : محبوب علئ شیخ 

کینیڈا کے اہم ترین صوبے اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ واشنگٹن ڈی سی کے دورے پر ہیں جہاں وہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان آزاد تجارت اور معاشی تعاون کے فروغ کے لیے مختلف کاروباری، زرعی اور آٹو سیکٹر رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ فورڈ اپنے “فورٹریس نارتھ امریکہ” وژن کو فروغ دے رہے ہیں جس کا مقصد پورے شمالی امریکہ میں روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو بڑھانا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ تصور کامیاب ہوا تو اونٹاریو سمیت پورے کینیڈا کو نئے معاشی مواقع حاصل ہو سکتے ہیں، تاہم سیاسی اور تجارتی چیلنجز اب بھی موجود ہیں ۔

اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ اس وقت واشنگٹن ڈی سی کے دو روزہ دورے پر ہیں جہاں ان کی توجہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ اگرچہ دورے کی بیشتر ملاقاتیں میڈیا سے دور رکھی گئی ہیں، تاہم سامنے آنے والی معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ایک رسمی دورہ نہیں بلکہ شمالی امریکہ کے معاشی مستقبل سے جڑا ایک اہم سفارتی مشن ہے۔

پریمیئر ڈگ فورڈ گزشتہ کئی ماہ سے ایک اصطلاح استعمال کر رہے ہیں جسے “Fortress North America” یعنی “شمالی امریکہ کا مشترکہ معاشی و سیکیورٹی قلعہ” کہا جا رہا ہے۔

اس تصور کے مطابق:

✅ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مل کر ٹیرف اور تجارتی رکاوٹیں کم کریں۔

✅ پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے۔

✅ نئی ملازمتیں پیدا ہوں۔

✅ چین اور دیگر عالمی مسابقتی طاقتوں کے مقابلے میں خطے کی معاشی طاقت کو مضبوط بنایا جائے۔

✅ مشترکہ سرحدی اور قومی سلامتی کو فروغ دیا جائے۔

اونٹاریو حکومت کے مطابق یہ تصور صرف تجارت نہیں بلکہ پورے براعظم کی معاشی حکمت عملی کا حصہ بن سکتا ئے 

پریمئیر ڈگ فورڈ نے اپنے دورے کا آغاز واشنگٹن میں کینیڈا کے سفارت خانے سے کیا جہاں انہوں نے امریکہ میں کینیڈا کے سفیر مارک وائزمین اور اونٹاریو کے وزیر تجارت وک فیڈیلی کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں شمالی امریکہ میں “ٹیرف فری ٹریڈ” یعنی محصولات سے پاک تجارت کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پس منظر میں امریکی کانگریس کی عمارت کے ساتھ لی گئی تصویر فورڈ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی شیئر کی جسے سیاسی حلقوں میں ایک علامتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں پریمئیر ڈگ فورڈ کی ملاقاتیں خاص طور پر آٹو انڈسٹری کے نمائندوں،  زرعی شعبے کے رہنماؤں، کاروباری شخصیات اور امریکی کانگریس کے اعلیٰ ارکان کے ساتھ طے کی گئی ہیں۔

یہ دونوں شعبے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان اربوں ڈالر کی تجارت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اونٹاریو کا آٹو سیکٹر اور زرعی برآمدات امریکی منڈی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اس لیے کسی بھی ٹیرف یا تجارتی تنازعے کا براہِ راست اثر روزگار اور معیشت پر پڑتا ہے۔

ڈگ فورڈ نے واشنگٹن میں آٹو ڈرائیو امریکہ ، امریکن فورم بیورو فیڈریشن اور امریکن آٹو موٹیو پالیسی کونسل کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔

ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد امریکی کاروباری اداروں کو یہ باور کرانا ہے کہ کینیڈا اور امریکہ ایک دوسرے کے معاشی شراکت دار ہیں، حریف نہیں۔

واضح رہے کہ پریمئیر ڈگ فورڈ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات ہمیشہ آسان نہیں رہے۔

ماضی میں ٹرمپ نے کینیڈا سے تجارتی مذاکرات روک دیے تھے جسکے بعد ڈگ  فورڈ نے رونالڈ ریگن پر مبنی ایک متنازع اشتہار جاری کیا تھا اور حالیہ دنوں میں ڈگ فورڈ نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دوبارہ کینیڈا کو “51ویں ریاست” قرار دینے کے بیانات دے رہے ہیں۔اس کے باوجود ڈگ فورڈ کی موجودہ حکمت عملی محاذ آرائی کے بجائے معاشی تعاون پر زور دیتی دکھائی دیتی ہے۔

واشنگٹن میں اونٹاریو کے نمائندے ڈیوڈ پیٹرسن کے مطابق فورڈ کی کاروباری پس منظر اور قدامت پسند سیاسی سوچ امریکی ریپبلکن حلقوں میں قابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔

پیٹرسن کا کہنا ہے کہ“ڈگ فورڈ کاروبار، ترقی اور کم ٹیکسوں پر یقین رکھتے ہیں، اور یہی بہت سے امریکی پالیسی سازوں کی سوچ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈگ فورڈ کو واشنگٹن میں ایک مؤثر سفارتی آواز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر فورڈ کا “فورٹریس نارتھ امریکہ” وژن کامیاب ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں اضافہ، نئی فیکٹریوں کا قیام،  ہزاروں نئی ملازمتیں،  آٹو سیکٹر کا استحکام،  زرعی برآمدات میں اضافہ اور  صارفین کے لیے کم قیمتیں ممکن ہو سکتی ہیں۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ منصوبہ کئی رکاوٹوں سے بھی دوچار ہو سکتا ہے جنمیں  امریکی داخلی سیاست،  تجارتی تحفظ پسندی،  چین کے ساتھ معاشی مقابلہ،  سرحدی اور سیکیورٹی معاملات،  کینیڈا اور امریکہ کے مختلف معاشی مفادات

لہٰذا یہ راستہ آسان نہیں ہوگا۔ 

واضح رہے کہ ڈگ فورڈ کا واشنگٹن دورہ محض چند ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی وژن کی نمائندگی کرتا ہے۔

“فورٹریس نارتھ امریکہ” کا تصور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آنے والے برسوں میں کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو عالمی معاشی مقابلے میں اپنی مشترکہ طاقت کو کس طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دورہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے کہ کیا شمالی امریکہ مستقبل میں ایک زیادہ مربوط معاشی بلاک بن سکتا ہے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے