فیفا ورلڈ کپ 2026 — کائل لارن کا تاریخی گول، کینیڈا نے تاریخ رقم کر دی

Spread the love

فیفا ورلڈ کپ میں پہلا پوائنٹ حاصل، ٹورنٹو جشن میں ڈوب گیا

کینیڈا | رپورٹ: محبوب علی شیخ

کینیڈا نے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایک ایسا تاریخی لمحہ رقم کر دیا جسے ملکی فٹبال کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میزبان ملک کینیڈا نے Bosnia and Herzegovina کے خلاف سنسنی خیز مقابلے کے بعد 1-1 سے ڈرا کھیلتے ہوئے مردوں کے فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں اپنا پہلا پوائنٹ حاصل کر لیا۔

ٹورنٹو کے بھرے ہوئے اسٹیڈیم میں 43 ہزار سے زائد شائقین کی موجودگی میں ہونے والا یہ مقابلہ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ قومی جذبے، امید اور نئے خوابوں کی علامت بن گیا۔ اس تاریخی شام کے ہیرو برامپٹن سے تعلق رکھنے والے کائل لارن (Cyle Larin) بنے جنہوں نے 78ویں منٹ میں وہ تاریخی گول اسکور کیا جس نے پورے اسٹیڈیم کو خوشی، جذبات اور جشن میں بدل دیا۔

یہ گول کئی حوالوں سے غیر معمولی تھا — یہ کینیڈا کی سرزمین پر مردوں کے ورلڈ کپ کا پہلا گول بھی تھا اور اسی گول نے قومی ٹیم کو عالمی کپ کی تاریخ کا پہلا پوائنٹ بھی دلوایا۔

میچ کے آغاز میں بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور 21ویں منٹ میں Jovo Lukić کے گول کے ذریعے برتری حاصل کر لی۔ پہلے ہاف میں کینیڈا دباؤ کا شکار دکھائی دیا، لیکن دوسرے ہاف میں ٹیم نے مکمل اعتماد، رفتار اور مسلسل حملوں کے ذریعے کھیل کا نقشہ بدل دیا۔

کینیڈا کے کھلاڑیوں نے شاندار ٹیم ورک، مضبوط دفاع اور جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ ثابت کیا کہ وہ اب صرف میزبان نہیں بلکہ عالمی فٹبال کے ایک سنجیدہ دعوے دار بھی ہیں۔

میچ کے دوران اور اس کے بعد پورا ٹورنٹو فٹبال کے رنگ میں رنگا نظر آیا۔ GO Transit، Liberty Village، Fort York Fan Festival، Downtown Toronto اور Brampton کی واچ پارٹیز میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں شائقین نے کینیڈا کے جھنڈے لہرا کر، نعرے لگا کر اور بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ اپنی ٹیم کی حمایت کی۔

اس تاریخی لمحے نے مختلف کمیونٹیز کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ ایٹوبیکو میں بوسنیائی کمیونٹی نے بھی اپنی ٹیم کی بھرپور حمایت کی۔ کئی Bosnian-Canadians کے لیے یہ میچ جذباتی اہمیت رکھتا تھا، جہاں ایک طرف ان کا آبائی وطن تھا اور دوسری طرف ان کا نیا گھر کینیڈا۔

تقریب کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے۔ ٹورنٹو پولیس کے مطابق دو افراد کو مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جبکہ اسٹیڈیم اور فین زون کے اطراف دو غیر مجاز ڈرونز کو بھی روکا گیا۔ حکام نے یاد دہانی کرائی کہ ورلڈ کپ تقریبات کے دوران فضائی حدود پر خصوصی پابندیاں نافذ ہیں۔

اسٹیڈیم کے اندر کھانے پینے کی قیمتیں بھی شائقین کی توجہ کا مرکز بنیں۔ پانی کی بوتل تقریباً 7 ڈالر، بیئر 16.75 ڈالر سے زائد، پاپ کارن 11.75 ڈالر جبکہ ہاٹ ڈاگ اور چپس تقریباً 19.75 ڈالر تک فروخت ہوئے، تاہم ان بلند قیمتوں کے باوجود شائقین کے جوش و خروش میں کوئی کمی دیکھنے میں نہ آئی۔

یہ مقابلہ صرف ایک پوائنٹ حاصل کرنے کی کہانی نہیں بلکہ کینیڈین فٹبال کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ کئی سالوں کی محنت، نوجوان ٹیلنٹ، بہتر انفراسٹرکچر اور عالمی سطح پر مسابقت کی تیاری اب نتائج دینا شروع ہو چکی ہے۔

اب پوری قوم کی نظریں وینکوور میں قطر کے خلاف ہونے والے اگلے میچ پر مرکوز ہیں، جہاں کینیڈا اپنی پہلی ورلڈ کپ فتح کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے میدان میں اترے گا۔

ایک تاریخی گول… ایک تاریخی پوائنٹ… اور ایک ایسا لمحہ جس نے ثابت کر دیا کہ کینیڈا اب عالمی فٹبال کے بڑے اسٹیج پر اپنی موجودگی کا اعلان کر چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے