اولیویا چاؤ کی برتری خطرے میں پڑگئی
بریڈ بریڈفورڈ کی جانب سے مئیر شپ کی دوڑ میں تیزی
رپورٹ : محبوب علی شیخ
ٹورنٹو کے تازہ ترین سیاسی سروے کے مطابق موجودہ میئر اولیویا چاؤ اور کونسلر بریڈ بریڈفورڈ کے درمیان مقابلہ توقع سے کہیں زیادہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ چاؤ عمومی ووٹنگ میں آگے ہیں، لیکن براہِ راست مقابلے میں بریڈفورڈ معمولی برتری حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹورنٹو کے 62 فیصد سے زائد شہری سمجھتے ہیں کہ شہر غلط سمت میں جا رہا ہے، جبکہ ٹریفک، مہنگائی اور جرائم شہریوں کے سب سے بڑے مسائل بن چکے ہیں۔ یہی عوامل آئندہ میئرل الیکشن کے نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتے ہیں۔
ٹورنٹو کے آئندہ میئرل انتخابات کے حوالے سے سامنے آنے والے تازہ سروے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مین اسٹریٹ ریسرچ (Mainstreet Research) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ میئر اولیویا چاؤ اگرچہ ابھی بھی برتری رکھتی ہیں، لیکن ان کے مدمقابل بریڈ بریڈفورڈ حیران کن رفتار سے فاصلے کم کرتے جا رہے ہیں۔
سروے کے مطابق اگر آج انتخابات ہوں تو 43.6 فیصد فیصلہ شدہ ووٹرز اولیویا چاؤ کو ووٹ دیں گے جبکہ 37.8 فیصد بریڈ بریڈفورڈ کے حق میں رائے رکھتے ہیں۔ تقریباً 18.6 فیصد ووٹرز کسی اور امیدوار کو ترجیح دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سروے میں صرف دو امیدواروں، اولیویا چاؤ اور بریڈ بریڈفورڈ، کے درمیان براہِ راست مقابلے کا سوال پوچھا گیا تو نتیجہ مکمل طور پر بدل گیا۔
اس صورت میں 51.9 فیصد افراد نے بریڈفورڈ کی حمایت کی جبکہ 48.1 فیصد نے چاؤ کو منتخب کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر انتخابی میدان محدود ہوا تو موجودہ میئر کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سروے کا ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ ٹورنٹو کے رہائشیوں کی بڑی تعداد شہر کی موجودہ سمت سے مطمئن نہیں۔
62.2 فیصد شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹورنٹو “غلط سمت” میں جا رہا ہے، جبکہ صرف 23.2 فیصد سمجھتے ہیں کہ شہر درست راستے پر گامزن ہے۔ تقریباً 14.6 فیصد افراد اس حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یہی احساسِ عدم اطمینان موجودہ میئر کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
سروے کے مطابق 45.7 فیصد افراد نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت اولیویا چاؤ کو ووٹ نہیں دیں گے، جبکہ صرف 25.1 فیصد نے بریڈ بریڈفورڈ کے بارے میں یہی رائے ظاہر کی۔
اسی طرح بطور میئر اولیویا چاؤ کی کارکردگی کو صرف 40.8 فیصد افراد نے پسند کیا، جبکہ 56 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
مین اسٹریٹ ریسرچ کے صدر کیوٹو ماجی کے مطابق یہ اعداد و شمار میئر کے لیے تشویشناک ہیں کیونکہ ووٹرز کا ایک بڑا طبقہ پہلے ہی ان کے خلاف ذہن بنا چکا ہے۔
سروے میں شہریوں سے پوچھا گیا کہ میئرل انتخاب میں ان کے نزدیک سب سے اہم مسئلہ کیا ہے۔
نتائج کے مطابق:
ٹرانسپورٹیشن اور ٹریفک جام — 27.3٪
مہنگائی اور بڑھتی ہوئی لاگتِ زندگی — 25.8٪

جرائم اور عوامی تحفظ — 23.5٪
روزگار اور معاشی ترقی — 6.8٪
بزرگ شہریوں کی خدمات — 5.1٪

دیگر مسائل — 11.5٪
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شہری بنیادی شہری سہولیات اور روزمرہ زندگی کے مسائل کو سیاسی نعروں پر ترجیح دے رہے ہیں۔
سروے میں ٹورنٹو سٹی ہال کی جانب سے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ٹکٹ کارپوریٹ اسپانسرز کو منافع کے ساتھ فروخت کرنے کے فیصلے پر بھی رائے لی گئی۔
49.4 فیصد شہریوں نے اس اقدام کی مخالفت کی جبکہ 37.1 فیصد نے اس کی حمایت کی۔ باقی افراد غیر یقینی کا شکار رہے۔
شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ اس طرح کے اقدامات عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں، اگرچہ شہر کا مؤقف ہے کہ اس سے ٹیکس دہندگان پر پڑنے والا مالی بوجھ کم ہوگا
اونٹاریو حکومت کی جانب سے بلی بشپ ایئرپورٹ کی توسیع کے منصوبے پر بھی عوامی رائے منقسم نظر آئی۔
55.8 فیصد افراد نے اس منصوبے کی مخالفت کی جبکہ 37.9 فیصد نے حمایت کی۔
یہ صورتحال اس دعوے سے مختلف ہے جو پریمیئر Doug Ford ماضی میں کرتے رہے ہیں کہ اکثریت اس منصوبے کے حق میں ہے۔ دوسری جانب میئر Olivia Chow اور متعدد کمیونٹی گروپس اس منصوبے کے ناقدین میں شامل ہیں۔
فی الحال میئر کے عہدے کے لیے 23 امیدوار رجسٹرڈ ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اصل مقابلہ اولیویا چاؤ اور بریڈ بریڈفورڈ کے درمیان ہی ہوگا۔
یہ سروے 12 سے 18 جون 2026 کے دوران 1,157 بالغ شہریوں سے آن لائن اور ٹیلیفون کے ذریعے کیا گیا۔ سروے کی شرحِ خطا ±2.9 فیصد بتائی گئی ہے۔
بطور صحافی میرا تجزیہ یہ ہے کہ ٹورنٹو کی سیاست ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر موجودہ عوامی بے چینی برقرار رہی تو اولیویا چاؤ کے لیے دوبارہ کامیابی آسان نہیں ہوگی۔ دوسری جانب بریڈ بریڈفورڈ کو اپنی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک، رہائش، مہنگائی اور عوامی تحفظ جیسے مسائل پر واضح اور قابلِ عمل منصوبے پیش کرنا ہوں گے۔
