کینیڈا میں 1 کروڑ 20 لاکھ افراد کیلئے بڑی مالی خوشخبری

Spread the love

آج سے خصوصی ادائیگیاں شروع

 کینیڈین عوام کیلئے مہنگائی کے خلاف بڑا ریلیف

رپورٹ : محبوب علی شیخ 

کینیڈا کی وفاقی لبرل حکومت نے مہنگائی کے بوجھ سے متاثرہ شہریوں کیلئے ایک اہم مالی ریلیف پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ آج سے ملک بھر میں تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ اہل کینیڈین شہریوں کے بینک اکاؤنٹس میں خصوصی اضافی ادائیگیاں منتقل ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

یہ اقدام وزیراعظم مارک کارنی کی جانب سے رواں سال جنوری میں متعارف کرائی گئی “Canada Groceries and Essentials Benefit” اسکیم کا حصہ ہے، جس کا مقصد خوراک اور روزمرہ ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

کئی برسوں سے کم آمدنی والے کینیڈین خاندانوں کو GST/HST Credit کے ذریعے سہ ماہی مالی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ اب حکومت نے اسی پروگرام کو مزید مؤثر اور وسیع شکل دیتے ہوئے “Canada Groceries and Essentials Benefit” میں تبدیل کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد صرف امدادی رقوم فراہم کرنا نہیں بلکہ مستقبل میں مستقل بنیادوں پر شہریوں کی قوتِ خرید کو بہتر بنانا بھی ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق وہ تمام شہری جو اپنی 2024 کی انکم ٹیکس ریٹرن کی بنیاد پر مقررہ آمدنی کی حد پر پورا اترتے ہیں، اس ادائیگی کے اہل ہوں گے۔

اہل افراد کو کسی علیحدہ درخواست یا فارم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ رقوم خودکار طور پر ڈآئریکٹ ڈپازٹ کے ذریعے بینک اکاؤنٹس میں یا ڈاک کے ذریعے چیک کی صورت میں بھیجی جائیں گی۔

ادائیگی کا انحصار خاندان کے حجم اور آمدنی پر ہوگا۔چند نمایاں مثالیں اکیلا بالغ فرد (بغیر بچوں کے): 267 ڈالر تک،  دو بچوں والے جوڑے: 533 ڈالر تکُ یہ خصوصی ادائیگی دراصل سالانہ بینیفٹ کے 50 فیصد اضافی ٹاپ اپ کے برابر ہے۔

حکومت نے صرف ایک وقتی امداد پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک طویل المدتی منصوبہ بھی متعارف کروایا ہے۔

جولائی 2026 سے سہ ماہی ادائیگیوں میں 25 فیصد اضافہ ہوگا یہ اضافہ مسلسل اگلے پانچ برس تک جاری رہے گا

حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد مہنگائی اور رہائشی اخراجات کے دباؤ کے دوران کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کینیڈین شہریوں کیلئے “Affordability” یعنی روزمرہ زندگی کو قابلِ برداشت بنانے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ گروسری، کرایوں، یوٹیلٹی بلز اور دیگر بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے لاکھوں خاندانوں کے بجٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے پیش نظر یہ نیا پروگرام متعارف کروایا گیا ہے۔

 ماہرین کے مطابق غذائی امداد کے شعبے میں کام کرنے والی متعدد تنظیموں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ پروگرام تمام مہنگائی کے مسائل حل نہیں کرے گا، تاہم کم آمدنی والے لاکھوں خاندانوں کیلئے یہ مالی مدد خوراک، ادویات اور ضروری بلوں کی ادائیگی میں نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں عالمی مہنگائی، سپلائی چین کے مسائل، رہائشی بحران اور بلند شرح سود نے نہ صرف کینیڈا بلکہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔

ایسے حالات میں وفاقی حکومت کی جانب سے یہ اقدام ان لاکھوں شہریوں کیلئے ایک وقتی مگر اہم ریلیف سمجھا جا رہا ہے جو روزمرہ اخراجات میں مسلسل اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے