وزن، طرزِ زندگی اور ایک ایسی ورزش جو جوڑوں کی صحت بدل سکتی ہے
رپورٹ: محبوب علی شیخ
دنیا بھر میں گھٹنوں کے درد اور جوڑوں کے مسائل تیزی سے عام ہوتے جا رہے ہیں۔ بڑھتی عمر، جسمانی وزن میں اضافہ، غیر متوازن غذا اور مصروف طرزِ زندگی نے لاکھوں افراد کو اس مسئلے سے دوچار کر دیا ہے۔ نتیجتاً ہر سال ہزاروں افراد گھٹنے کی تبدیلی (Knee Replacement Surgery) کروانے پر مجبور ہوتے ہیں— ایک ایسا علاج جو نہ صرف مہنگا ہوتا ہے بلکہ اس کے بعد بحالی کا عمل بھی کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔
تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر بروقت اختیار کر لی جائیں تو بہت سے افراد اس مرحلے تک پہنچنے سے بچ سکتے ہیں۔
وزن اور گھٹنوں کا تعلق: ایک خاموش خطرہ
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا ہر اضافی کلو وزن گھٹنوں پر کئی گنا زیادہ دباؤ پیدا کرتا ہے۔ جب یہ دباؤ مسلسل برسوں تک برقرار رہے تو گھٹنے کے جوڑوں میں موجود کارٹلیج آہستہ آہستہ گھسنے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں درد، سوجن اور چلنے پھرنے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
روزمرہ زندگی میں اکثر لوگ وزن بڑھنے کو معمولی مسئلہ سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی اضافی وزن مستقبل میں سیڑھیاں چڑھنے، لمبے فاصلے چلنے اور یہاں تک کہ عام نقل و حرکت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
جدید طرزِ زندگی اور بڑھتا ہوا خطرہ
آج کے دور میں فاسٹ فوڈ، میٹھی مشروبات اور پراسیسڈ غذائیں عام ہو چکی ہیں۔ ان میں کیلوریز زیادہ جبکہ غذائیت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ دوسری طرف مصروف زندگی جسمانی سرگرمی کیلئے وقت کم کر دیتی ہے، جس سے وزن میں بتدریج اضافہ ہونے لگتا ہے۔
عام طور پر ماہرین تقریباً 7,500 کیلوریز کو ایک کلوگرام جسمانی وزن کے برابر تصور کرتے ہیں، اسی لیے وزن کم کرنا مستقل مزاجی اور طویل مدتی عادات میں تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔
کیا ہر ورزش گھٹنوں کیلئے فائدہ مند ہوتی ہے؟
سوشل میڈیا پر اکثر زیادہ دوڑنے، سیڑھیاں چڑھنے اور سخت ورزشوں کے مشورے دیے جاتے ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہر ورزش ہر فرد کیلئے مناسب نہیں ہوتی۔
خاص طور پر ایسے افراد جن کے گھٹنوں میں پہلے سے درد موجود ہو یا وزن زیادہ ہو، ان کیلئے بعض سخت ورزشیں الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے ورزش کا انتخاب اپنی جسمانی حالت اور طبی مشورے کے مطابق کرنا ضروری ہے۔
تیراکی: کم دباؤ، زیادہ فائدہ
طبی اور فٹنس ماہرین تیراکی کو دنیا کی بہترین مکمل ورزشوں میں شمار کرتے ہیں۔
پانی میں جسم کا وزن نمایاں حد تک کم محسوس ہوتا ہے، جس کی وجہ سے گھٹنوں، کولہوں اور کمر پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک میں آرتھرائٹس اور جوڑوں کے مریضوں کو تیراکی کی باقاعدہ سفارش کی جاتی ہے۔
تیراکی کے نمایاں فوائد:
• گھٹنوں اور جوڑوں پر کم دباؤ
• دل اور پھیپھڑوں کی بہتر کارکردگی
• جسمانی وزن کم کرنے میں مدد
• عضلات کی مضبوطی اور لچک میں اضافہ
• ذہنی دباؤ میں کمی
• برداشت اور جسمانی توازن میں بہتری
اسی وجہ سے دنیا بھر کے ماہرین اسے “Full Body Exercise” قرار دیتے ہیں۔
سرجری سے پہلے احتیاط
گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری جدید طب کی ایک اہم کامیابی ضرور ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ مؤثر راستہ وہ عادات ہیں جو انسان کو اس مرحلے تک پہنچنے سے بچا سکیں۔
متوازن غذا، وزن پر قابو، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور تیراکی جیسی کم دباؤ والی ورزشیں جوڑوں کی صحت بہتر رکھنے اور بہتر معیارِ زندگی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
شاید آج کی چھوٹی تبدیلی، کل کی بڑی سرجری سے بچا لے۔
