سہہ فریقی مکہ معاہدہ: عالم اسلام کے لئے اُمید کی کرن

Spread the love

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مابین ہونے ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو مسلم دنیا کے لئے ایک تاریخی قدم اور مشرق وسطٰی میں ایک اہم تزویراتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ معاہدہ مسلم دنیا کیلئے کئی دہائیوں کے بعد ایک اہم سنگ میل کی طرف وہ پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے جسکا مطالبہ پوری امت مسلمہ میں عوامی سطح پر طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔اس معاہدہ کو پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے کا تسلسل کہا جا سکتا ہے اور توقع کی جا سکتی ہے مستقبل میں امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں اس معاہدے میں مصر’قطر کویت اور ایران سمیت دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہو جائیں گے اور یہ نیٹو کی طرح ایک ایسے گرینڈ مسلم بلاک کی شکل اختیار کرسکتا ہے جو کسی بڑی طاقت کی محتاجی کے بغیر باہمی اشتراک و تعاون سے جہاں اپنے دفاعی معاشی علاقائی سیاسی و سفارتی مسائل کو حل کرنے کے قابل ہو وہیں دنیا کے دیگر معاملات کے بارے میں اس کے موقف اور اقدامات کا وزن ہو۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکہ اسرائیل یورپ اور ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک اس کو کیسے دیکھتے ہیں اور اس پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ 

قطر کویت صومالیہ نے تو اسے خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم یو اے ای سمیت دیگر مسلم ممالک اور امریکہ اور یورپی ممالک کی کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان ترکیہ اور سعودیہ کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ اس معاہدہ کا کسی ملک کے خلاف کوئی جارحانہ ڈیزائن نہیں ہے یہ باہمی دفاعی معاشی اور علاقائی تعاون و اشتراک پر مبنی ہے۔اس کے باوجود اسرائیل اور بھارت میں اس معاہدہ کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اسرائیل نے تو اسے اپنے لیے خطرناک قرار دے دیا ہے۔

 اس معاہدے کے حوالے سے یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے کہ آیا یہ معاہدہ اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر پائے گا یا محض کاغذوں تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گا ؟مزید یہ کہ اس پر عملدرآمد کن صورتوں میں ہوگا، اسکی حدود اور طریقہ کار کیا ہوگا ؟۔ان سوالات کا جواب حاصل کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس معاہدے کے اہم نکات کیا ہیں

اس معاہدے کے سب سے اہم نکتے کے مطابق معاہدے میں شریک تینوں ممالک میں سے کسی ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس ضمن میں جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے، اور اس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ ’تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک کے خلاف ہونے والا کوئی بھی عسکری حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ تینوں ریاستوں کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں کو فروغ دینے اور انھیں مضبوط بنانے سے متعلق ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں ہیں تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد جارحیت کے کسی بھی اقدام کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) کو مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ 

دفترِ خارجہ کے مطابق اس معاہدے پر دستخط کرنے کی باقاعدہ تقریب سے قبل تینوں ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ دفاعی سمٹ میں شرکت کی، جس میں تینوں ملکوں کے مابین روابط اور مشترکہ مفادات کا جائزہ لیا گیا۔ بیان کے مطابق تینوں ممالک کے دیرینہ تاریخی تعلقات اور مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور طویل عرصے جاری دفاعی تعاون کی بنیاد پر تینوں رہنماؤں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے حصول کی خاطر اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے اور خطے اور اس سے باہر امن ، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے تینوں ممالک کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔

اس معاہدے کے حوالے سے خبریں اور قیاس آرائیاں کافی عرصے سے جاری تھیں اور رواں برس جنوری میں ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا تھا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق بات چیت جاری ہے۔ فیدان نے اس وقت کہا تھا کہ صدر اردوغان کی یہ سوچ ہے کہ ایک وسیع اور جامع پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جائے۔ اس کے بعد جنوری میں ہی پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ایک سال کے مذاکرات کے بعد دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا چکا ہے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی معاہدے سے الگ ہو گا۔

یہ پہلو اہم ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی اور سفارتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ پاکستان حالیہ عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں شامل رہا ہے جبکہ ترکی غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کو اس تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست ہے جو دشمن قوتوں کی جارحیت کے خلاف ڈیٹرنس کے طور پر کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس معاہدے کے حوالے سے یہ سوال بہت اہم ہے کہ یہ معاہدہ ان تینوں ممالک اور خطے کیلئے کیا کردار ادا کرسکتا ہے ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے