کینیڈا کا روسی جنگی مشینری کے خلاف بڑا ایکشن : دفاعی کمپنی اسٹریٹ گروپ پر پابندیاں عائد 

Spread the love

روسی نیشنل گارڈ کو بکتر بند گاڑیاں اور فوجی سازوسامان فراہم کرنے کا الزام، انیتا آنند کا روسی جنگی صلاحیتیں محدود کرنے کا اعلان

رپورٹ : محبوب علی شیخ 

کینیڈا نے روس کی جنگی مشینری کے خلاف ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنی Streit Group پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اعلان کیا ہے کہ Special Economic Measures (Russia) Regulations کے تحت اسٹریٹ گروپ کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

کینیڈین حکومت کے مطابق اسٹریٹ گروپ بکتر بند گاڑیاں اور دیگر فوجی سازوسامان تیار کرتی ہے، جبکہ متعدد معتبر رپورٹس سے تصدیق ہوئی ہے کہ کمپنی کی تیار کردہ بکتر بند گاڑیاں روسی نیشنل گارڈ (Rosgvardia) کے استعمال میں رہی ہیں، جو یوکرین کے خلاف جاری روسی جنگ میں سرگرم ہے۔

کینیڈا کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ گروپ ماضی میں روسی اداروں کو دفاعی مصنوعات فراہم کرکے روس کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی معاونت کرتی رہی ہے اور روسی جنگی صلاحیت کو تقویت دینے میں کردار ادا کرتی رہی ہے۔

وزیر خارجہ انیتا آنند کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد اسٹریٹ گروپ کی روس کو فوجی ٹیکنالوجی اور دفاعی سازوسامان فراہم کرنے کی صلاحیت کو رکاوٹ اور محدود کرنا ہے، تاکہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگی صلاحیتوں کو کم کیا جاسکے۔

جاری کردہ بیان کے مطابق کینیڈین حکومت نے ایک بار پھر یوکرین کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرینی عوام روسی جارحیت کے سامنے اپنے ملک اور حقوق کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کینیڈا کے مطابق اسٹریٹ گروپ پر پابندیاں یوکرین، یورپی یونین اور سوئٹزرلینڈ کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے بھی ہم آہنگ ہیں۔ یوکرین نے کمپنی کے خلاف 2023 جبکہ یورپی یونین اور سوئٹزرلینڈ نے 2025 میں اسی نوعیت کے اقدامات کیے تھے۔

کینیڈین حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے اب تک کینیڈا 3,500 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرچکا ہے جنہیں یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزیوں یا سنگین اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔

کینیڈا کا تازہ اقدام روس کے دفاعی شعبے اور جنگی سپلائی چین پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے