میسی کے پہلی بار بین الاقوامی ریٹائرمنٹ کے اعلان پر رونالڈو نے کیا کہا تھا؟

Spread the love

ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے دنیائے فٹبال کے عظیم کھلاڑی لیونل میسی نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے بین الاقوامی فٹ بال سے کنارہ کشی کی ہو۔

حالیہ ورلڈ کپ کے دوران ارجنٹینا کی نمائندگی کرنے والے لیونل میسی کی ٹائٹل کے لیے دفاعی مہم خواہش کے مطابق نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی اور ٹرافی اسپین کے نام ہو گئی۔

فائنل میں شکست میسی کا ارجنٹینا کے لیے آخری میچ ثابت ہوئی اور سابق بارسلونا اسٹار نے چند ہی ہفتوں بعد بین الاقوامی فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، گزشتہ روز انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ میں اب ارجنٹینا کی شرٹ نہیں پہنوں گا۔

اس سے قبل میسی نے پہلی بار 2016ء کے کوپا امریکا فائنل میں چلی کے ہاتھوں ارجنٹینا کی شکست کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، اس فیصلے پر ان کے دیرینہ حریف کرسٹیانو رونالڈو نے بھی ردِعمل ظاہر کیا تھا۔

اس موقع پر رونالڈو نے اپنے حریف کے جذبات کو سمجھنے پر زور دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ میسی کے مشکل فیصلے کے پسِ منظر کو سمجھیں۔

رونالڈو نے اس وقت ہسپانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ میسی نے ایک مشکل فیصلہ کیا ہے اور لوگوں کو اسے سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میسی شکست اور مایوسی کے عادی نہیں ہیں، حتیٰ کہ دوسرے نمبر پر رہنا بھی ان کے لیے آسان نہیں، پنالٹی ضائع کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایک خراب کھلاڑی ہیں۔

رونالڈو اس وقت یہ نہیں جانتے تھے کہ میسی بالآخر ورلڈ کپ ٹرافی بھی اپنے نام کر لیں گے، وہی ٹرافی جو اب تک پرتگالی اسٹار کی پہنچ سے دور ہے، تاہم وہ امید کر رہے تھے کہ ارجنٹائن کے اسٹار فٹ بالر اپنا فیصلہ واپس لیں گے اور دوبارہ اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔

رونالڈو نے اس وقت کہا تھا کہ میسی کو آنسوؤں میں دیکھنا تکلیف دہ ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے واپس آئیں گے کیونکہ ارجنٹینا کو ان کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ 2016ء کے کوپا امریکا فائنل میں پنالٹی ضائع ہونے اور مسلسل ناکامیوں سے دل برداشتہ میسی نے عہد کیا تھا کہ دوبارہ کبھی ارجنٹینا کی قومی ٹیم کے لیے نہیں کھیلوں گا، تاہم میسی نا صرف بین الاقوامی فٹ بال میں واپس آئے بلکہ انہوں نے بعدازاں کئی بڑے اعزازات بھی اپنے نام کیے، جن میں 2021ء اور 2024ء کے کوپا امریکا ٹائٹلز کے علاوہ 2022ء کا فیفا ورلڈ کپ بھی شامل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے