ٹورنٹو میں بغیر ڈرائیور ٹیکسیوں کی آمد: 2028 میں روبوٹیکسی سروس شروع کرنے کا منصوبہ

Spread the love

مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گاڑیوں کا نیا دور؛ 2026 میں سڑکوں کی ڈیجیٹل نقشہ سازی اور آزمائشی سفر شروع کرنے کا اعلان، ٹرانسپورٹ کے مستقبل اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے روزگار پر نئی بحث چھڑ گئی

رپورٹ: محبوب علی شیخ

کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو میں شہری ٹرانسپورٹ کے مستقبل سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گوگل کی مادر کمپنی الفابیٹ (Alphabet) کی ملکیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنی وے مو (Waymo) نے 2026 میں ٹورنٹو کی سڑکوں پر خودکار گاڑیوں کی آزمائش شروع کرنے اور 2028 میں مسافروں کے لیے روبوٹیکسی سروس متعارف کروانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اونٹاریو حکومت کی جانب سے کمپنی کو صوبائی آزمائشی پروگرام میں شرکت کی اجازت ملنے کے بعد اس منصوبے کو کینیڈا میں خودکار ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی کی ترقی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں گاڑیوں کے اندر انسانی ڈرائیور موجود ہوں گے، جبکہ ٹورنٹو کی سڑکوں، چوراہوں اور ٹریفک کے حالات کی ڈیجیٹل نقشہ سازی بھی کی جائے گی۔ تاہم، 2028 میں تجارتی سروس کا آغاز متعلقہ حفاظتی تقاضوں، قوانین اور ضروری منظوریوں سے مشروط ہوگا۔

Waymo کے منصوبے کے مطابق ابتدائی آزمائشوں کا مقصد ٹورنٹو کے شہری ماحول، سڑکوں کے ڈھانچے، ٹریفک کے بہاؤ اور ڈرائیونگ کے مختلف حالات سے متعلق معلومات جمع کرنا ہے۔ ہائی ڈیفینیشن ڈیجیٹل نقشہ سازی سے خودکار گاڑیوں کے نظام کو سڑکوں اور اطراف کے ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

ابتدائی مرحلے میں گاڑی کے اندر انسانی ڈرائیور موجود ہوگا، جو ضرورت پڑنے پر کنٹرول سنبھال سکے گا۔ اس لیے آزمائشی پروگرام کے آغاز کا مطلب یہ نہیں کہ ٹورنٹو کے شہری فوری طور پر مکمل طور پر بغیر ڈرائیور ٹیکسیاں استعمال کر سکیں گے۔

اگر منصوبہ طے شدہ مراحل کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو 2028 میں روبوٹیکسی سروس کا آغاز شہر کی سفری سہولتوں میں ایک نئی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔

خودکار گاڑیوں کے لیے ٹورنٹو کا موسم ایک اہم تکنیکی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ شہر میں شدید برف باری، جمی ہوئی سڑکیں، بارش، دھند اور محدود حدِ نگاہ گاڑیوں کے خودکار نظام کی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ گاڑیاں کیمروں، ریڈار، لائیڈار اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیتی ہیں۔ تاہم برف سے ڈھکی سڑکوں، غیر واضح لین مارکنگ، اچانک سامنے آنے والے پیدل چلنے والوں اور غیر متوقع ٹریفک صورتِ حال میں ان نظاموں کی قابلِ اعتماد کارکردگی انتہائی اہم ہوگی۔

اسی لیے ٹورنٹو میں آزمائش صرف ایک نئی ٹیکسی سروس کا تجربہ نہیں، بلکہ شمالی امریکا کے سرد موسم میں خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کی صلاحیت جانچنے کا بھی اہم موقع ہوگی۔

Waymo کے مطابق اس کی گاڑیوں کے 400 ملین کلومیٹر سے زیادہ خودکار سفر کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جن شہروں میں کمپنی کام کر رہی ہے، وہاں تقابلی انسانی ڈرائیونگ کے مقابلے میں سنگین زخمیوں یا ہلاکتوں کا باعث بننے والے حادثات کی شرح 95 فیصد کم رہی ہے۔

تاہم، یہ کمپنی کے فراہم کردہ اعدادوشمار ہیں اور انہیں ٹورنٹو میں ثابت شدہ نتائج نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان نتائج کا جائزہ لیتے وقت متعلقہ شہروں، تقابلی طریقۂ کار اور حادثات کی درجہ بندی کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ٹورنٹو میں اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کا انحصار مقامی حالات میں اس کی کارکردگی، حفاظتی معیار اور شہریوں کے اعتماد پر ہوگا۔

Waymo کی ٹورنٹو آمد سے مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، گاڑیوں کی دیکھ بھال، سافٹ ویئر اور فلیٹ مینجمنٹ کے شعبوں میں کاروباری مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

کمپنی نے ٹورنٹو میں قائم Element Fleet Management کے ساتھ شراکت داری کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے ذریعے گاڑیوں کی دیکھ بھال، کسٹمر سروس اور دیگر عملی امور میں تعاون فراہم کیا جائے گا۔

آٹوموٹیو پارٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر Flavio Volpe نے اس پیش رفت کو کینیڈا کی موبیلٹی ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا میں ایسی متعدد ٹیکنالوجی کمپنیاں موجود ہیں جو جدید آٹوموبائل اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

تاہم، Waymo نے ابھی تک ٹورنٹو میں نئی ملازمتوں کی متوقع تعداد یا اس منصوبے سے پیدا ہونے والے مخصوص معاشی فوائد کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔

Waymo کی مجوزہ آمد ایک اہم معاشی اور سماجی سوال بھی اٹھاتی ہے: اگر خودکار ٹیکسیاں کامیاب ہو جاتی ہیں تو ٹورنٹو میں Uber، Lyft اور روایتی ٹیکسی سروسز کے ڈرائیوروں کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا؟

ممکنہ طور پر خودکار ٹیکسیاں مستقبل میں سفری سہولت، دستیابی، کرایوں اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر موجودہ سروسز کے لیے نئے مقابلے کا باعث بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب، خودکار گاڑیوں کی دیکھ بھال، ریموٹ سپورٹ، سافٹ ویئر اور فلیٹ مینجمنٹ جیسے شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

فی الحال Waymo نے ٹورنٹو میں مجوزہ سروس کے کرایوں، گاڑیوں کی تعداد، سروس کے علاقوں یا مقامی ڈرائیوروں کے روزگار پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اس لیے ان تبدیلیوں کے حقیقی معاشی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے مزید معلومات اور عملی نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔

خودکار ٹیکسیوں کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہوگا کہ آیا یہ سہولت بزرگ شہریوں، معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد اور روزمرہ آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنے والے مسافروں کے لیے مؤثر ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔

اس حوالے سے گاڑیوں میں آسان داخلے، وہیل چیئر کی سہولت، ہنگامی مدد اور ضرورت کے وقت انسانی معاونت جیسے امور اہم ہوں گے۔ تاہم، ٹورنٹو میں مجوزہ سروس کے لیے ان سہولتوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

خودکار گاڑیوں کے استعمال کے ساتھ مسافروں کی حفاظت، انشورنس، قانونی ذمہ داری اور ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کریں گے۔

اگر کوئی خودکار ٹیکسی حادثے میں ملوث ہوتی ہے تو ذمہ داری کا تعین نافذ قوانین، حادثے کے حالات اور متعلقہ فریقوں کے کردار کے مطابق ہوگا۔ اسی طرح گاڑیوں کے کیمروں اور سینسرز سے جمع ہونے والے ڈیٹا کے استعمال اور تحفظ کے لیے شفاف اصول ضروری ہوں گے۔ان معاملات پر عوامی اعتماد حاصل کرنا اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

Waymo کی مجوزہ آمد ٹورنٹو کو خودکار ٹرانسپورٹ کی عالمی ترقی میں نمایاں مقام حاصل کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم اس منصوبے کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ صرف جدید گاڑیوں یا مصنوعی ذہانت کی صلاحیت نہیں کرے گی، بلکہ سخت موسمی حالات میں کارکردگی، مسافروں کا اعتماد، قابلِ برداشت کرائے، قانونی تحفظ اور شہریوں کی ضروریات بھی اہم ہوں گی۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا 2028 تک ٹورنٹو کی سڑکوں پر روبوٹیکسیوں کا خواب حقیقت بن سکے گا، اور کیا یہ ٹیکنالوجی شہر کے لاکھوں شہریوں کے روزمرہ سفر کو زیادہ محفوظ، آسان اور قابلِ رسائی بنانے میں کامیاب ہوگی؟

آنے والے دو برسوں میں آزمائشی سفر اور حفاظتی جائزوں کے نتائج اس سوال کا جواب دینے میں اہم کردار ادا کریں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے