2030 کی دہلیز پر کھڑی یہ دنیا آج سے بالکل مختلف اور ایک ایسے خوفناک فکری و معاشی انوکھے پن کا پیش خیمہ دکھائی دیتی ہے جہاں انسان کو آزادی، خود مختاری اور بنیادی اختیارات سے محروم کرنے کی خاموش مگر منظم تیاریاں عروج پر ہیں۔
آج کل عالمی سطح پر جو فکری اور سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، اس کا سب سے خطرناک اور روح فرسا نعرہ ورلڈ اکنامک فورم اور اس کے بانی کلاؤس شواب کا وہ مشہورِ زمانہ فلسفہ ہے جس کا اعلان بڑے فخر سے کیا جاتا ہے: ’آپ کے پاس کچھ نہیں ہوگا اور آپ خوش ہوں گے‘۔
بظاہر یہ جملہ ماحولیاتی پائیداری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سہولت کا ایک پرفریب عنوان لگتا ہے، مگر باطن میں یہ انسانیت کی تاریخ کی سب سے بڑی اور جدید غلامی کا طوق ہے۔
یہ اس بات کا صریح اعلان ہے کہ آنے والے دور میں عام انسان کی حیثیت ایک آزاد بااختیار وجود کی نہیں بلکہ کارپوریٹ اجارہ داریوں کے رحم و کرم پر پلنے والے ایک بے بس محکوم کی ہو گی۔ جب انسان سے اس کا گھر، اس کی زمین، اس کی ذاتی سواری اور ہر قسم کی نجی ملکیت کا حق چھین کر اسے کرائے کی زندگی پر گزارا کرنے پر مجبور کر دیا جائے، تو ایسی مسلط کردہ مصنوعی خوشی دراصل غلامی کا دوسرا نام بن جاتی ہے، جہاں انسان اپنی ہی زندگی، اپنی خوراک اور اپنے سر چھپانے کے ٹھکانے پر کوئی قانونی یا مالکانہ اختیار نہیں رکھتا۔
ورلڈ اکنامک فورم کی قیادت میں جو ’گریٹ ری سیٹ‘ کا ایجنڈا مرتب کیا جا رہا ہے، اس کا اصل مقصد قومی ریاستوں، آئینی خودمختاری اور مقامی حکومتوں کے اثر و رسوخ کو ختم کر کے ایک عالمی حکومت اور یک قطبی کارپوریٹ نظام کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس عالمگیر ایجنڈے کے تحت دنیا کو چند بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی کی بڑی اجارہ داریوں اور نام نہاد عالمی فلاحی تنظیموں کے کنٹرول میں دینا مقصود ہے، جو یہ طے کریں گے کہ عام انسان کیا کھائے گا، کہاں رہے گا، کس طرح سفر کرے گا اور اس کی سوچ کا زاویہ کیا ہوگا۔ اس فکری نظریے کے پس پردہ کارفرما مختلف ذیلی پروگراموں، حکمت عملیوں اور منصوبوں کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ خوفناک حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ انسانیت کو قدم بہ قدم ایک ایسی کھلی جیل میں دھکیلا جا رہا ہے جہاں فرار کا کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔
