ایک طاقت ور ملک کی مجموعی حکمت عملی اکثر کھلے بیان سے بہت پہلے خاموش پالیسی تبدیلیوں کے ذریعے شکل اختیار کرتی ہیں۔ اِس وقت بھارت کے حوالے سے امریکی پالیسی کے ساتھ یہی ہو رہا ہے، جسے خاموشی سے لیکن بنیادی طور پر دوبارہ لکھا جا رہا ہے۔دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ایک ابھرتے جمہوری بھارت کو واشنگٹن کی جانب سے ایک مثبت پہلو کے طور پر دیکھا گیا… توسیع پسند چین کا معاشی و عسکری توازن۔ امریکی انتظامیہ نے مسلسل بھارت سے گہرے تعلقات استوار کیے جس نے اس تعلق کو امریکہ کی دونوں جماعتوں کے اتحاد کا ایک نادر ستون بنا دیا۔مگر امریکی بھارتی شراکت داری کی اسٹریٹجک رومانیت اب ختم ہو چکی اور واشنگٹن نے بھارت سے متعلق اپنا طریقہ کار بدل دیا ہے۔ اس تبدیلی کی نمایاں خصوصیات میں جابرانہ سفارت کاری، پاکستان کی طرف امریکی ’’جھکاؤ‘‘ کی بحالی اور بیجنگ کے ساتھ ساختاتی ہم آہنگی شامل ہیں۔ امریکی حکمت عملی میں بھارت کا کردار سکڑنا شروع ہو گیا ہے۔ واشنگٹن میں اب بھارت ایسا اسٹریٹجک شراکت دار نہیں رہا جس کی افزائش کی جائے بلکہ ایک ایسے ممکنہ معاشی حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کا عروج روکنا ضروری ہے کہ کہیں یہ طویل المدتی امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن جائے۔ یہ صورتحال صرف معاشی مسائل تک محدود نہیں ۔ بھارت کے قریبی پڑوس میں امریکی پالیسی اب بھارت کے علاقائی مفادات کے خلاف کام کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتی۔
اس صدی میں نئی دہلی نے واشنگٹن کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اِس اُمید پر کہ گہرے تعلقات بھارت کے معاشی اور اسٹریٹجک عروج میں مددگار ہوں گے۔بھارت اب بھی اس تعلق کو اپنے طویل المدتی مفادات کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ یہ امریکہ کے ساتھ اہم جیو پولیٹیکل مفادات کا اشتراک کرتا ہے،دہشت گردی کے خاتمے سے لے کر چین کا عروج سنبھالنے اور انڈو-پسیفک خطّے میں استحکام برقرار رکھنے تک، ایک ایسا خطّہ جو پہلے ہی قوتِ خرید کی بنیاد پر دنیا کی تقریباً نصف اور برائے نام (نومل) بنیادوں پر ایک تہائی سے زیادہ جی ڈی پی پیدا کرتا ہے۔ بدلے میں واشنگٹن نے بھی طویل عرصہ بھارت کی اہمیت تسلیم کی: اُس کا حجم، اہم سمندری اور توانائی کے راستوں کے قریب جغرافیہ، عسکری رسائی اور خلائی و سائنسی امور میں کامیابی اُسے ایشیا میں طاقت کے کسی بھی مستحکم توازن کے لیے مرکزی حیثیت دیتی ہیں۔ ایسے وقت جب دیگر اہم معیشتیں سست روی کا شکار ہیں، بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی مارکیٹ بنا ہوا ہے،امریکی برآمد کنندگان کے لیے ایک مقناطیس۔
بل کلنٹن سے شروع کرتے ہوئے سبھی امریکی صدور نے بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے جس سے امریکی خارجہ پالیسی کے چند قابلِ اعتماد یکساں نکتہ ہائے نظر میں سے ایک سامنے آیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے دوران تعلقات عروج پر پہنچے جس میں وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات نے مدد کی۔شخصیت کی باہمی ہم آہنگی سے زیادہ اہم اُس کا جوہر (سبسٹینس) تھا: ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ نے اپنی انڈو-پسیفک حکمت عملی میں بھارت کو نمایاں مقام دیا، چین کو اسٹریٹجک حریف قرار دے کر 45 سالہ امریکی پالیسی الٹ دی، اور دہشت گردی سے تعلق کا بہانہ بنا اس کی سیکیورٹی امداد بند کر دی۔
جنوری 2025 ء میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی سے توقع تھی کہ وہ اسی وراثت کو آگے بڑھائیں گے۔ اس کے برعکس، تعلقات تیزی سے خراب ہوئے جیسا کہ سبھی مبصرین تسلیم کرتے ہیں۔یو ایس کانگریس کے ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے ’’صدر ٹرمپ نے مئی 2025ء سے ایسے اقدامات کیے جنھوں نے بھارت کے ساتھ شراکت داری کو خطرے میں ڈال دیا۔‘‘ عجیب بات یہ کہ یہ تبدیلی چین کے لیے ٹرمپ کے زیادہ نرم رویّے اور پاکستان کو گلے لگانے کے ساتھ ساتھ ہوئی جو ان کی پہلی مدت کے موقف کا واضح الٹاؤ ہے۔ ٹرمپ کی عوام کے سامنے بھارتی حکومت کی تذلیل اور ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے بھارت کے ساتھ تعلقات پر پڑتے دباؤ کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ لیکن وائٹ ہاؤس میں ان کی واپسی سے پہلے ہی یہ تعلقات دباؤ کا شکار تھے۔پہلی دراڑیں صدر جو بائیڈن کے دور میں سامنے آئیں۔ افغانستان سے امریکی افواج کو اچانک نکالنے کے بائیڈن فیصلے ، یوں ملک کو پاکستان کے حمایت یافتہ طالبان کے حوالے کرنے اور اس کے بعد یوکرین پر حملے کی وجہ سے روس کے خلاف امریکہ کی قیادت میں لڑائی نے دنیا کی سب سے طاقتور اور سب سے بڑی جمہوری معیشتوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی۔
بھارت نے اسرائیل اور ترکی جیسے امریکی شراکت داروں کی طرح یوکرین جنگ پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا،جیسا کہ اس سے قبل عراق اور لیبیا پر امریکہ کی قیادت میں ہوئے حملوں کے دوران کیا تھا۔ اس کے باوجود واشنگٹن نے نئی دہلی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی: بائیڈن کے اعلیٰ معاشی مشیر برائن ڈیز نے خبردار کیا کہ بھارت کی غیر جانبداری کے ’’نتائج اور قیمت بوجھل اور طویل المدتی ہوگی۔‘‘
یوکرین تنازع میں بھارت کی غیر جانبداری تنازعات کی اُس سیریز کا صرف آغاز تھی جس نے دوطرفہ تعلقات کو متزلزل کر دیا۔ بھارت کو امریکی اسلحے کی زیادہ فروخت کے باوجود جیسے کہ 2024 ء میں 3.8 ارب ڈالر کا ڈرون معاہدہ، یہ واضح ہو گیا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان کبھی پھلنے پھولنے والی اسٹریٹجک شراکت داری اب کمزور ہو رہی ہے۔
دوطرفہ کشیدگی اُس وقت کھلے عام سامنے آئی جب بھارتی حکمران جماعت، بی جے پی نے علانیہ طور پر ’’امریکی ڈیپ اسٹیٹ‘‘ پر بھارت اور اس کے کاروباری اداروں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ’’جھوٹے بیانیے‘‘استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ بھارت میں 2024ء کے مہینوں پر محیط قومی انتخابی عمل کے دوران امریکہ کے کچھ بیانات جو بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے موقف کی عکاسی کرتے تھے، بی جے پی کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوری مشق میں ناقابلِ قبول مداخلت قرار دیے گئے۔
