چین اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری کی نئی پیش رفت
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ کینیڈا آئندہ برسوں میں چین کو اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے انہیں آسانی سے دوگنا کر سکتا ہے، جو کہ اوٹاوا کے 2030 تک برآمدات میں 50 فیصد اضافے کے ہدف سے بھی زیادہ ہے۔
وانگ یی اس وقت 10 سال بعد کینیڈا کے پہلے اعلیٰ سطحی چینی سفارتی دورے پر موجود ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی میں کمی اور تعلقات کی بحالی کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ساتھ ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں موجودہ اہداف سے زیادہ تیزی سے اضافہ ممکن ہے۔ انیتا آنند نے اس موقع پر کہا کہ کینیڈا اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور تجارتی شراکت داری کو مزید متنوع بنانے پر توجہ دے رہا ہے، جبکہ چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیا۔
گزشتہ عرصے میں دونوں ممالک نے الیکٹرک گاڑیوں اور کینولا کے بیجوں پر ٹیرف میں کمی کے لیے ابتدائی تجارتی سمجھوتہ بھی کیا تھا۔ چین اس وقت کینیڈا کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
دوسری جانب کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی امریکی تجارتی دباؤ اور محصولات کے بعد برآمدات کو دیگر منڈیوں تک پھیلانے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں، جبکہ گزشتہ برس درجنوں اقتصادی اور سکیورٹی معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
کارنی کے مطابق چین کے ساتھ حالیہ رابطوں کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات میں بنیادی بہتری کی جانب پیش رفت کی ہے، جبکہ ماضی میں یہ تعلقات خاص طور پر سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کے دور میں کشیدہ ہو گئے تھے۔
