جدید، شفاف اور عوام دوست پاکستان کی جانب بڑا قدم
رپورٹ: محبوب علی شیخ
پاکستان میں سرکاری خدمات کو جدید، شفاف اور عوام دوست بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومتِ پاکستان اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے پاسپورٹ فیس کی ادائیگی کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت اب پاسپورٹ دفاتر میں نقد رقم وصول نہیں کی جائے گی۔
یہ اقدام نہ صرف عوام کے لیے سہولت میں اضافہ کرے گا بلکہ مالی شفافیت، بہتر نظم و نسق اور جدید ای گورننس کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
نئے نظام کے تحت شہری اب اپنی پاسپورٹ فیس مختلف ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ادا کر سکیں گے، جن میں:
آن لائن بینکنگ
موبائل بینکنگ ایپس
ڈیبٹ کارڈز
کریڈٹ کارڈز
منظور شدہ ڈیجیٹل والٹس
ادائیگی مکمل ہونے کے بعد شہریوں کو موصول ہونے والی رسید یا ادائیگی کا ثبوت پاسپورٹ دفتر میں پیش کرنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں سرکاری خدمات تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہی ہیں اور پاکستان کا یہ اقدام بھی اسی عالمی رجحان کے مطابق ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہر ٹرانزیکشن کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رہے گا، جس سے آڈٹ، نگرانی، تصدیق اور مالی شفافیت کے عمل میں بہتری آئے گی جبکہ غیر ضروری تاخیر اور مالی بے ضابطگیوں کے امکانات کم ہوں گے۔
ماضی میں شہریوں کو بینکوں اور پاسپورٹ دفاتر میں فیس جمع کرانے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا تھا، تاہم اب چند منٹ میں گھر بیٹھے ادائیگی ممکن ہوگی، جس سے وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ہوگی۔
موبائل بینکنگ کے ذریعے فیس ادا کرنے کا آسان طریقہ:
اپنی بینکنگ ایپ کھولیں
Government Payments یا Bill Payment منتخب کریں
Passport Fee یا DGIP تلاش کریں
مطلوبہ کیٹیگری منتخب کریں
رقم درج کریں
ادائیگی مکمل کریں
رسید محفوظ کرلیں
پاسپورٹ دفتر جاتے وقت درج ذیل دستاویزات ساتھ رکھیں:
قومی شناختی کارڈ (CNIC / NICOP)
ڈیجیٹل ادائیگی کی رسید
پرانا پاسپورٹ (تجدید کی صورت میں)
دیگر مطلوبہ سرکاری دستاویزات
ماہرین نے شہریوں کو سائبر سکیورٹی کے حوالے سے بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے:
OTP کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں
پاس ورڈ محفوظ رکھیں
غیر معروف لنکس پر کلک نہ کریں
جعلی سوشل میڈیا صفحات سے محتاط رہیں
صرف سرکاری ذرائع استعمال کریں
اگرچہ ابتدائی مرحلے میں دور دراز علاقوں اور بزرگ شہریوں کو کچھ مشکلات پیش آ سکتی ہیں، تاہم مناسب رہنمائی، آگاہی اور سہولت مراکز کے ذریعے اس تبدیلی کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔
برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور خلیجی ممالک سمیت دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی سرکاری ادائیگیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا چکے ہیں، اور پاکستان کا یہ اقدام بھی ایک جدید، شفاف اور مؤثر نظام کی جانب مضبوط پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ صرف ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے پاکستان کی جانب قدم ہے جہاں سہولت، شفافیت اور ٹیکنالوجی عوامی خدمات کی بنیاد بنیں۔
