بالی ووڈ کے معروف اداکار منوج باجپائی نے اپنی آنے والی فلم کے متنازع عنوان پر ہونے والی شدید تنقید اور دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع کے دوران نہ صرف انہیں بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں منوج باجپائی نے کہا کہ اگر کسی تخلیقی کام سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں تو فنکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی غلطی کو درست کرے، اور فلم کا نام تبدیل کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ تخلیقی شعبے میں بہتر متبادل تلاش کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا پر فوری اور بغیر تحقیق رائے قائم کرنے کے رجحان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اکثر لوگ کسی بھی فلم کے مکمل سیاق و سباق کو سمجھے بغیر ردعمل دینا شروع کر دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ مذکورہ فلم کے ابتدائی عنوان پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے تھے، جن میں اسے ذات پات سے متعلق حساس قرار دیا گیا تھا۔ اس معاملے پر قانونی کارروائی بھی سامنے آئی تھی، جبکہ بعد ازاں پروڈیوسرز نے دہلی ہائی کورٹ میں فلم کا عنوان تبدیل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔پروڈکشن ٹیم کے مطابق فلم کا نیا عنوان تاحال سامنے نہیں آیا، جبکہ اس کی ریلیز آئندہ نیٹ فلکس پر متوقع ہے۔
