چین اور کینیڈا کے تعلقات میں بہتری، تعاون کے نئے دور کا آغاز
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین اور کینیڈا کے درمیان تعلقات بحال ہو کر ایک نئی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مکمل طور پر بحال کیا جا چکا ہے۔
اوٹاوا میں کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ساتھ ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کی رہنمائی میں اقتصادی، تجارتی اور دیگر شعبوں میں روابط دوبارہ فعال ہو چکے ہیں، جبکہ اہم اختلافات اور خدشات کو بھی مناسب انداز میں حل کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین اور کینیڈا نئی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ کینیڈین وزیرِاعظم کے دورہ چین اور اے پی ای سی اجلاس میں شرکت کی تیاریوں کو بھی آگے بڑھایا جائے گا تاکہ تعلقات کو مستحکم اور متوازن بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔
وانگ یی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو توانائی، مالیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں تک وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے نشیب و فراز سے یہ سبق ملتا ہے کہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کے تحت تعلقات کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
اس موقع پر انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا چین کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور ایک چین پالیسی پر قائم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کینیڈا نے 2030 تک چین کو اپنی برآمدات میں 50 فیصد اضافہ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
دونوں ممالک نے اس موقع پر اسٹریٹجک مکالمے کا نیا نظام قائم کرنے، سیاسی و سکیورٹی مشاورت دوبارہ شروع کرنے اور اعلیٰ سطحی سیکیورٹی و قانون کی حکمرانی سے متعلق مذاکرات بحال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
