پنجاب کی جانب سے کینیڈین سرمایہ کاروں کو کھلی دعوت، ڈیری، AI، ٹیکسٹائل، انرجی، تعلیم، موبائل مینوفیکچرنگ اور پنک سالٹ سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع
رپورٹ: محبوب علی شیخ
ٹورنٹو: پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پنجاب کے وزیر صنعت، تجارت و سرمایہ کاری چوہدری شافع حسین نے کینیڈین سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی کھلی دعوت دیتے ہوئے ڈیری، مصنوعی ذہانت (AI)، ٹیکسٹائل، انرجی، تعلیم، موبائل فون مینوفیکچرنگ، الیکٹرک وہیکلز، فارماسیوٹیکل، سرجیکل آلات اور پنک سالٹ سمیت مختلف شعبوں میں وسیع مواقع کی پیشکش کردی۔
کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم اور ٹورنٹو میں پاکستان کے قونصل جنرل خلیل باجوہ کی جانب سے دیے گئے ظہرانے کے موقع پر چوہدری شافع حسین نے قونصل خانے کے تفصیلی دورے کے دوران محبوب شیخ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی بھرپور گنجائش موجود ہے۔
صنعتی زونز میں 10 سال تک ٹیکس چھوٹ، مشینری پر زیرو ڈیوٹی
صوبائی وزیر نے بتایا کہ پنجاب کے فری زونز اور صنعتی اسٹیٹس میں سرمایہ کاروں کو متعدد مراعات فراہم کی جارہی ہیں۔ فری زونز میں صنعت قائم کرنے والوں کو مشینری درآمد کرنے پر صفر فیصد ڈیوٹی کی سہولت حاصل ہوگی جبکہ بعض صنعتی زونز میں 10 سال تک انکم ٹیکس میں چھوٹ بھی دی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صنعتی زونز میں بجلی اور گیس کی سہولیات دستیاب ہیں جبکہ بعض صنعتی اسٹیٹس میں حکومت نے اپنے گرڈ اسٹیشن قائم کیے ہیں جہاں نسبتاً کم نرخوں پر بجلی فراہم کی جارہی ہے۔
پلاٹ مافیا کے خلاف کارروائی، 6 ماہ میں تعمیر شروع کرنا لازمی
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صنعتی اسٹیٹس میں پلاٹوں کی ذخیرہ اندوزی اور انہیں کئی سال تک فیکٹری قائم کیے بغیر روک کر رکھنے کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت صنعتی پلاٹ حاصل کرنے والے سرمایہ کار کو چھ ماہ کے اندر تعمیراتی کام شروع کرنا ہوگا، جبکہ دو سال کے اندر فیکٹری قائم نہ کرنے کی صورت میں پلاٹ منسوخ کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو کم قیمت پر 40 سے 50 سال تک لیز کی سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے۔
کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت
صوبائی وزیر نے کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ پنجاب کے فری زونز اور صنعتی اسٹیٹس میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد میں ایک ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر بڑی صنعتی اسٹیٹ قائم ہے، جبکہ رحیم یار خان میں بھی 400 ایکڑ سے زائد رقبے پر صنعتی اسٹیٹ موجود ہے۔ وہاڑی سمیت پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی صنعتی انفراسٹرکچر کو وسعت دی جارہی ہے۔
30 دن میں این او سیز، بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز کا بڑا کردار
چوہدری شافع حسین کے مطابق گزشتہ ڈھائی سے تین سال کے دوران پنجاب میں بزنس فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار مختلف سرکاری محکموں کے چکر لگائے بغیر تقریباً 30 دن کے اندر ضروری این او سیز حاصل کرسکتے ہیں۔
Vivo موبائل مینوفیکچرنگ، لیتھیم بیٹریز اور الیکٹرک بائیکس پر پیش رفت
صوبائی وزیر نے بتایا کہ چینی کمپنی Vivo کی جانب سے پاکستان میں موبائل فونز کی مینوفیکچرنگ کے منصوبے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے اور منصوبے کی عمارت کا تقریباً 40 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیتھیم بیٹریز، الیکٹرک بائیکس اور دیگر جدید صنعتی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے جبکہ 200 ایکڑ سے زائد رقبے پر فارماسیوٹیکل ویلی قائم کی جارہی ہے۔
کینیڈا اور امریکا سیالکوٹ کے سرجیکل آلات کی بڑی مارکیٹ
چوہدری شافع حسین نے کہا کہ سیالکوٹ میں تیار ہونے والے سرجیکل آلات کی امریکا اور کینیڈا میں بڑی مارکیٹ موجود ہے۔ پنجاب میں سیرامکس، مصنوعی چمڑے، کھیلوں کے سامان، ٹائلز اور دیگر صنعتی شعبوں میں بھی کینیڈین سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔
پاکستانی پنک سالٹ کی ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ
پنجاب حکومت پاکستان کے مشہور پنک سالٹ اور ہمالیائی نمک کی ویلیو ایڈیشن پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
قائدآباد میں 200 ایکڑ سے زائد رقبے پر نمک کی ویلیو ایڈیشن کے لیے صنعتی اسٹیٹ قائم کی جارہی ہے، جس کا مقصد خام نمک برآمد کرنے کے بجائے پاکستان میں ہی اس کی ویلیو بڑھا کر عالمی منڈی میں زیادہ معاشی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
بغیر سود قرضے، 10 لاکھ سے ایک ارب روپے تک کاروباری سہولت
اوورسیز پاکستانیوں کو پیغام دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایا کہ آسان کاروبار اسکیم کے تحت اکتوبر سے بینک آف پنجاب کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کے لیے مالی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
ان کے مطابق چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے 10 لاکھ روپے سے 5 کروڑ روپے جبکہ بڑے کاروبار کے لیے ایک ارب روپے تک کی اسکیم موجود ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ قرضے بغیر سود فراہم کیے جائیں گے اور سیاسی وابستگی سے قطع نظر ہر اہل شخص درخواست دے سکے گا۔
ایم او یوز نہیں، زمین پر نظر آنے والے منصوبے اصل کامیابی ہیں
چوہدری شافع حسین نے زور دیا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں اور بڑے بڑے ایم او یوز پر دستخط ہوتے رہتے ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہے جب معاہدوں کے بعد منصوبے عملی طور پر زمین پر نظر آئیں۔
انہوں نے بتایا کہ چین کے ساتھ کیے گئے 16 ایم او یوز میں سے چار منصوبے عملی طور پر شروع ہوچکے ہیں، جن میں موبائل فون مینوفیکچرنگ، لیتھیم بیٹریز، الیکٹرک بائیکس اور دیگر صنعتی منصوبے شامل ہیں۔
تین لاکھ سے زائد پاکستانی، پاکستان کینیڈا تجارتی تعلقات کا اہم پل
کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے کہا کہ کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے اور یہ کمیونٹی وینکوور سے سینٹ جانز تک مختلف شہروں اور صوبوں میں موجود ہے۔
چوہدری شافع حسین نے پاکستانی کمیونٹی کو پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کا اہم پل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اصل امتحان: ایم او یوز سے آگے عملی شراکت داری
پنجاب کے وزیر صنعت، تجارت و سرمایہ کاری کا دورۂ کینیڈا دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کے لیے نئے امکانات سامنے لے آیا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی اور کینیڈین سرمایہ کاروں کے درمیان یہ پیشکشیں ایم او یوز سے آگے بڑھ کر حقیقی اور پائیدار منصوبوں میں تبدیل ہوں گی؟
ڈیری، AI، ٹیکسٹائل، انرجی، تعلیم، موبائل مینوفیکچرنگ، الیکٹرک وہیکلز، فارماسیوٹیکل، سرجیکل آلات اور پنک سالٹ جیسے شعبے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان مستقبل کے تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کے اہم ستون بن سکتے ہیں۔
