سابق امریکی سفیر جوئی ہُڈ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہی ہے، امریکی پابندیاں ایران کو اچانک اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کریں گی۔
عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں جوئی ہُڈ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی حملوں کی حدود کو واضح طور پر سمجھ لیا ہے لیکن ایران کے رویے میں تبدیلی کے لیے صرف اقتصادی پابندیاں کافی نہیں ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ 2015ء کے جوہری معاہدے کے لیے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں تقریباً 2 سال کی پابندیوں کا وقت لگا تھا۔
امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِحال میں چین اور روس مکمل طور پر امریکا کے مؤقف کے ساتھ نہیں ہیں جس کے باعث ایران پر دباؤ ڈالنے کی امریکی حکمتِ عملی پہلے جیسا نتیجہ نہیں دے سکتی۔
جوئی ہُڈ کے مطابق ایران یہ بھی جانتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد ایرانی حکومت کی تبدیلی ہے، اس لیے موجودہ حالات میں ایران کا امریکا کے ساتھ آسانی سے مذاکرات کی جانب آنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
