بڑی بہن کے گھر ہونے والی دعوت ختم ہوئی اور تصویر کشی کا دور شروع ہوا، کسی نے آواز لگائی’’پہلے جین زی کی تصویر ہوجائے پھر ایکس اور بومرز کی باری ہے۔‘‘ یہ محض مذاق تھا، لیکن اس سے ظاہر ہوا کہ زمانوں اور ادوار کے حساب سے ’’پیڑھیوں‘‘ کا تصور ہمارے ہاں کس قدر عام ہوچکا ہے، اور ’’جین زی‘‘ کا تو چرچا یوں ہورہا ہے جیسے ہمارے دیس میں پچھلی ساری نسلوں سے کٹی پھٹی اور ان کے اثرات سے پاک ایک نئی نسل گویا ’’بغیر سیاق وسباق‘‘ کے وجود میں آگئی ہو۔ہمارے سندھ میں پہلی ملاقات کے موقع پر ایک سوال پوچھا جاتا ہے ’’پانڑکیر‘‘ (آپ کون؟)، جس کا جواب ’’پنھور‘‘،’’کیہر‘‘، ’’جوکھیو‘‘۔۔۔۔وغیرہ کی صورت اپنی اپنی ذات، برادری اور قبیلے کی نسبت بتاکردیا جاتا ہے۔ لیکن حالات بتارہے ہیںکہ جلد اس استفسار پر جواباً زی، ایلفا، بی ٹا۔۔۔ہوگا۔ مجھ پر کوئی دو سال پہلے منکشف ہوا کہ میں ’’ایکس‘‘ ہوں، میں سوچ میں پڑگیا کہ اگر ایکس نسل کا کوئی شخص ایکس سرونٹ اور ایک ہسبینڈ کی پہچان بھی رکھتا ہو تو ’’ٹریپل ایکس‘‘ ہوکر وہ خود کو کتنا بے ہودہ محسوس کرتا ہوگا!۔ سوال یہ ہے کہ کیا جنریشنز کے اس درآمدی تصور میں کوئی حقیقت ہے؟ کیا تاریخ کے کسی بڑے اور ہمہ گیر واقعے یا کسی نئی ٹیکنالوجی کے ظہور کے اثرات اس قدر گہرے اور وسیع ہوتے ہیں کہ ان کے زیراثر کئی سال تک دنیا بھر میں پیدا ہونے والے بچے زیادہ یا چند بنیادی یکساں خصوصیات کے حامل ہوجاتے ہیں، سو انھیں بومر، ایکس اور ایلفا، بیٹا کا نام دے کر بڑی سہولت سے جنریشن کے کسی خانے میں فٹ کیا اور اس پیمانے پر افراد کا کردار سمجھا اور شخصیت کا خاکہ بنایا جاسکتا ہے؟
چلیے پہلے ان ’’جنریشنز‘‘ کا تعارف اور ان کی وجہ تسمیہ سے شناسائی ہوجائے۔ تو صاحب شروع کرتے ہیں’’بے بی بومرز (Baby Boomers) سے، یہ وہ خواتین وحضرات ہیں جن کی پیدائش جنگ عظیم دوئم کے فوری بعد ہوئی۔ یہ نام رکھنے کا سبب یہ بنا کہ اس جنگ کے بعد 1946 میں شرح پیدائش میں زبردست اضافہ ہوگیا تھا، گویا ولادت کی منڈی میں Boom (شدید تیزی) آگیا تھا، دھڑادھڑ نورِنظر اور لخت جگر پیدا ہونے کے اس دور کا خاتمہ 1964میں ہوا، سو اس دورانیے میں جو آئے بے بی بومرز کہلائے۔ پھر آمد ہوئی ’’ایکس‘‘ کی۔ یہ پیڑھی 1965 سے 1980 تک تولد ہوئی۔
انھیں ’’بے بی بسٹرز‘‘ ( busters baby) بھی کہا گیا، لیکن یہ نام چلا نہیں، اور ڈگلس کوپلینڈ کے ناول کا عنوان ’’جنریشن ایکس‘‘ ان کی پہچان بنا۔ نئی صدی شروع ہوئی تو اس کے قریب 1980سے 2000 کے اوائل تک، جنم لینے والے نئی صدی یا Millennium کی مناسبت سے ’’ملینیئلز‘‘ (Millennials) کہلائے۔ اس کے بعد مشہورزمانہ ’’جین زی‘‘ کا ظہور ہوا۔ اپنا لڑکپن آئی فونز کی سنگت میں گزارتی اس پیڑھی کی عصری حدود 1995سے 2012 تک متعین کی گئیں۔ گویا 1995سے 2000 تک دنیا میں آنے والے متنازع ہوگئے ہیں کہ انھیں ’’ملینیئلز‘‘ کے ڈبے میں بٹھایا جائے یا ’’زی‘‘ کے خانے میں جگہ دی جائے۔
زی کے بعد خیر سے ’’الفا‘‘ نسل بھی آچکی ہے۔ یہ 2010 سے شروع ہوئی اور 2020 کی دہائی تک جاری رہی۔ اس کی مدت پیدائش پر فی الوقت اتفاق نہیں، لیکن یہ نسل کسی اتفاق کا انتظار کیے بغیر پیدا ہوتی چلی گئی۔ اس کے بعد آنا ہے ’’بی ٹا‘‘ (Beta) پیڑھی، جس کی آمد کی ابتدا 2025 سے ہوئی اور اختتام 2039 میں ہوگا۔ ان پیڑھیوں میں رہتے ہوئے آپ کو بڑے محتاط انداز میں زبان استعمال کرنا ہوگی، ایسا نہ ہو کہ آپ کسی نوجوان کو کہیں ’’بیٹا‘‘ اور وہ پلٹ کر جواب دے،’’میں بی ٹا نہیں الفا ہوں۔‘‘ یہاں بتانا ضروری ہے کہ ’’سماجی نسلوں‘‘ کا تصور اور ان کے لیے نام مختص کرنا سب مغرب کا چکر ہے۔ دوسری جنگ عظیم نے براہ راست اور بالواسطہ طور پر سات کروڑ افراد کی جان لی، چناں چہ خاندان ہی نہیں ریاستیں بھی زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر مُصر ہوگئیں، نتیجہ بومرز کی صورت میں سامنے آیا۔ دیگر سماجی نسلیں بھی بنیادی طور پر مغرب میں پیدا شدہ حالات کے اثرات کے تحت ہی مختلف رجحانات کی حامل رہیں اور انھیں نسبتوں سے انھیں نام دیے گئے۔ رہے ہم پاکستانی تو ہمارے بس ’’اُداس نسلیں‘‘ ہی جنم لیتی رہی ہیں۔ مغرب میں بومرز سے پہلی والی کئی پیڑھیاں بھی اپنی شناخت رکھتی ہیں، جیسے ’’گم شدہ نسل‘‘ (Generation Lost)، جسے ’’1914 کی نسل‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اس پیڑھی کے لوگ 1883سے 1900کے دوران پیدا ہوئے اور جن پر پہلی عالمی جنگ کے دور میں جوانی آئی۔ دوسری جنگ میں حصہ لینے والی نسل ’’گریٹسٹ جنریشن‘‘ کہلائی، اس نسل میں 1901 سے 1927 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد شامل ہیں۔ ایک ’’خاموش نسل‘‘ بھی گزری ہے۔ 1928 سے 1945کے دوران جنم لینے والی یہ نسل دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں جوان ہوئی۔
اب پلٹتے ہیں اپنے سوال کی طرف جو ان نسلوں کی طرح پیدا ہوگیا ہے۔ خود مغرب میں جہاں سے سماجی نسلوں کا تصور ان کے مجموعی کردار اور شخصیت کے خاکے کے ساتھ آیا، یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ کیا یہ تصور حقیقت میں کوئی معنی رکھتا ہے؟ جہاں تک ہمارے معاشرے کا تعلق ہے تو نسلوں کے ان عنوانات کا ہم سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ اس نسلی تفریق کو، ہمارے ہاں جس کے نام بومرز، ایکس اور زی دھڑلے سے استعمال ہورہے ہیں، ویکیپیڈیا نے ’’مغربی دنیا‘‘ کے عنوان کے تحت درج کیا ہے۔
