ٹرمپ کا کینیڈا کو بڑا تجارتی ریلیف : 50 فیصد ٹیرف تین دن کے لیے مؤخر، تجارتی معاہدے کا اعلان  مگر حتمی دستاویزات ابھی باقی

Spread the love

کار، اسٹیل، ایلومینیم اور لکڑی سمیت اہم شعبوں پر مذاکرات جاری — ٹرمپ کا Keystone XL پر بھی بڑا اشارہ، کینیڈا اور امریکا کے درمیان آخری لمحات میں ڈیل کی راہ ہموار

رپورٹ: محبوب علی شیخ

کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری شدید تجارتی کشیدگی میں اچانک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین مصنوعات پر 19 اگست سے نافذ ہونے والے نئے 50 فیصد ٹیرف کو تین روز کے لیے مؤخر کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور اوٹاوا ایک تجارتی معاہدے تک پہنچ گئے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو حتمی دستاویزات کی تکمیل سے مشروط قرار دیا ہے۔ اس لیے اس مرحلے پر اسے مکمل اور حتمی تجارتی معاہدہ قرار دینے کے بجائے ایک ابتدائی یا اصولی سمجھوتے کی جانب بڑی پیش رفت کہنا زیادہ درست ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے منگل کی رات Truth Social پر اعلان کیا کہ کینیڈا پر بدھ کی صبح سے عائد ہونے والا 50 فیصد ٹیرف تین دن کے لیے روک دیا گیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق، دونوں ممالک ایک معاہدے تک پہنچ چکے ہیں، تاہم اس کی حتمی شکل دستاویزات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب دن بھر واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان انتہائی حساس تجارتی مذاکرات جاری تھے اور چند گھنٹے پہلے تک یہ واضح نہیں تھا کہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچ سکیں گے یا نہیں۔

وزیراعظم مارک کارنی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایک مرتبہ پھر ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ وزیراعظم کے دفتر نے اس وقت تصدیق کی کہ دونوں رہنماؤں نے جاری تجارتی مذاکرات پر گفتگو کی۔ یہ اسی ہفتے دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری براہِ راست گفتگو تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تجارتی تنازع اب اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر پہنچ چکا تھا۔

مجوزہ امریکی اقدام تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر مالیت کی کینیڈین برآمدات کو متاثر کر سکتا تھا۔ تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ نئے ٹیرف بعض ایسی مصنوعات تک پہنچ سکتے تھے جنہیں عام طور پر CUSMA/USMCA کے تحت ترجیحی تجارتی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے شعبوں میں سیمنٹ، خوراک و زرعی مصنوعات، الکحل، لکڑی اور ہاکی سے متعلق سامان سمیت متعدد مصنوعات شامل تھیں۔

مذاکرات میں کینیڈا میں تیار ہونے والی گاڑیوں پر امریکی ٹیرف ایک بڑا تنازع بنا ہوا تھا۔رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک اس امکان پر بھی بات کر رہے تھے کہ کینیڈین گاڑیوں پر موجود 25 فیصد Section 232 ٹیرف کو 15 فیصد تک کم کیا جائے۔تاہم اصل اختلاف ٹیرف میں رعایت کے حساب پر تھا۔

واشنگٹن چاہتا تھا کہ رعایت کا حساب گاڑی میں استعمال ہونے والے امریکی ساختہ پرزوں کی قدر کے مطابق کیا جائے، جبکہ کینیڈا کا مؤقف تھا کہ کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے تمام North American content کو حساب میں شامل کیا جائے۔یہ معمولی تکنیکی اختلاف نہیں بلکہ اربوں ڈالر کی شمالی امریکی آٹو انڈسٹری کے لیے انتہائی اہم معاملہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے اعلان میں Keystone XL Pipeline کے حوالے سے بھی ایک غیر معمولی اشارہ دیا۔اصل Keystone XL منصوبے کا صدارتی اجازت نامہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے 2021 میں منسوخ کر دیا تھا۔

تاہم اپریل 2026 میں صدر ٹرمپ پہلے ہی ایک نئے Bridger/South Bow منصوبے کے لیے سرحد پار اجازت نامہ دے چکے ہیں، جو سابق Keystone XL انفراسٹرکچر کے بعض حصوں کو استعمال کرتے ہوئے کینیڈین تیل امریکا منتقل کرنے کی صلاحیت بڑھا سکتا ہے۔

اس لیے ٹرمپ کے تازہ بیان سے یہ ابھی واضح نہیں کہ وہ اصل Keystone XL منصوبے کی سابقہ شکل کی بحالی کی بات کر رہے ہیں یا کسی وسیع تر توانائی معاہدے کے حصے کے طور پر اس منصوبے کا حوالہ دے رہے ہیں۔ اس کی اصل قانونی اور عملی شکل مکمل معاہدے کی دستاویزات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

تجارتی ماہرین اور کاروباری حلقے مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ وسیع پیمانے پر ٹیرف صرف کینیڈین کاروباروں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے بلکہ امریکی صارفین، کسانوں اور مینوفیکچررز کے اخراجات بھی بڑھا سکتے ہیں۔

کینیڈا اور امریکا کی زرعی، توانائی، آٹو اور مینوفیکچرنگ سپلائی چینز ایک دوسرے سے انتہائی گہرائی سے جڑی ہوئی ہیں۔اس لیے سرحد کے ایک طرف لگنے والی تجارتی رکاوٹ کا اثر اکثر دوسری طرف بھی منتقل ہوتا ہے۔

کینیڈین صنعت پہلے ہی مختلف امریکی ٹیرف اور تجارتی پابندیوں کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔خصوصاً آٹو، اسٹیل، ایلومینیم، lumber اور بعض زرعی شعبے نئے 50 فیصد ٹیرف سے مزید شدید دباؤ کا شکار ہو سکتے تھے۔

اسی لیے تین روز کے لیے ٹیرف کا التوا محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ ہزاروں کاروباروں، کارکنوں، سرمایہ کاروں اور صارفین کے لیے فوری اقتصادی اہمیت رکھتا ہے۔

اب سب سے زیادہ توجہ اس بات پر ہے کہ ممکنہ معاہدے کے تحت کینیڈا نے امریکا کو کیا رعایتیں دی ہیں اور اس کے بدلے امریکا نے کون سے ٹیرف کم یا ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

واشنگٹن طویل عرصے سے کینیڈا کے ڈیری سپلائی مینجمنٹ نظام، امریکی الکحل کی صوبائی مارکیٹ تک رسائی، بعض جوابی کینیڈین ٹیرف اور امریکی مصنوعات کے لیے مارکیٹ ایکسیس جیسے معاملات پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے۔دوسری جانب کینیڈا امریکی اسٹیل، ایلومینیم، آٹو اور دیگر سیکٹرل ٹیرف میں نمایاں کمی کا خواہاں رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے معاہدے کا اعلان ضرور کیا ہے، لیکن اسے خود حتمی دستاویزات کی تکمیل سے مشروط قرار دیا ہے۔

خبر کی اشاعت تک کینیڈین حکومت کی جانب سے مکمل معاہدے، اس کی شقوں، ممکنہ رعایتوں، حتمی ٹیرف شرحوں یا Keystone سے متعلق کسی مکمل پیکیج کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں آئی تھیں۔

لہٰذا تین روزہ ٹیرف مہلت ایک تصدیق شدہ اہم پیش رفت ہے، لیکن مکمل Canada–U.S. تجارتی معاہدے کی حتمی نوعیت دستاویزات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

اب سب کی نظریں ان سوالات کے جوابات پر ہیں:

کیا 50 فیصد ٹیرف مکمل طور پر ختم ہوگا یا صرف کم کیا جائے گا؟

کیا کینیڈین گاڑیوں پر امریکی ٹیرف 25 فیصد سے 15 فیصد پر آئے گا؟

کیا اسٹیل، ایلومینیم اور lumber کے لیے بھی بڑا ریلیف ملے گا؟

کینیڈا امریکی ڈیری، الکحل اور دیگر مصنوعات کے لیے کیا تبدیلیاں قبول کرے گا؟

اور Keystone XL کے حوالے سے ٹرمپ کا اعلان حقیقت میں کس بڑے توانائی پیکیج کا حصہ ہے؟

ٹیرف جنگ میں جنگ بندی یا نئے تجارتی دور کا آغاز؟

تین روز کی مہلت نے فوری طور پر ایک بڑے تجارتی تصادم کو ٹال دیا ہے، لیکن مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔اگر حتمی دستاویزات میں دونوں ممالک اہم شعبوں پر اتفاق کر لیتے ہیں تو یہ پیش رفت کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔لیکن اگر حتمی شرائط پر اتفاق نہ ہو سکا تو تین روزہ مہلت صرف ایک عارضی جنگ بندی ثابت ہوگی۔اب اصل امتحان اعلان کا نہیں، معاہدے کی مکمل دستاویزات کا ہے۔کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ رک گئی ہے—مگر کیا واقعی ختم بھی ہوگئی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے