قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم، مگر سپر مارکیٹ میں ریلیف کہاں؟ — گروسری مسلسل 18ویں ماہ مجموعی مہنگائی سے آگے، تازہ پھل 6.1 فیصد مہنگے
رپورٹ: محبوب علی شیخ
کینیڈا میں مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار میں گروسری کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار قدرے کم ضرور ہوئی ہے، لیکن عام کینیڈین صارف کے لیے سپر مارکیٹ کا بڑھتا ہوا بل اب بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Statistics Canada کے 17 اگست کو جاری کردہ جولائی 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق، food purchased from stores یعنی گروسری کی قیمتیں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 3.1 فیصد زیادہ رہیں۔ جون میں سالانہ اضافہ 3.9 فیصد تھا۔
یعنی گروسری سستی نہیں ہوئی—صرف قیمتوں میں اضافے کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے۔
جولائی 2026 میں کینیڈا کا مجموعی Consumer Price Index (CPI) سالانہ بنیاد پر 3.0 فیصد بڑھا، جو جون کے 2.8 فیصد اضافے سے زیادہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی مہنگائی میں دوبارہ تیزی دیکھی گئی، جبکہ گروسری کی مہنگائی میں معمولی کمی آئی۔ تاہم گروسری کی سالانہ مہنگائی اب بھی مجموعی CPI سے زیادہ رہی۔
جولائی مسلسل 18واں مہینہ تھا جب کینیڈا میں food purchased from stores کی سالانہ مہنگائی مجموعی CPI سے زیادہ رہی۔
گروسری کی مختلف اشیا میں قیمتوں کا رجحان یکساں نہیں رہا۔
جولائی میں تازہ سبزیوں اور چکن کی قیمتوں میں سالانہ اضافے کی رفتار کم ہوئی، جبکہ cereal products نے مجموعی گروسری مہنگائی کو نیچے لانے میں کچھ مدد کی۔
لیکن دوسری جانب تازہ پھل ایک سال کے مقابلے میں 6.1 فیصد مہنگے ہوئے۔صرف جون سے جولائی کے دوران تازہ پھلوں کی قیمتوں میں 4.7 فیصد اضافہ ہوا، جس میں berries اور melons نمایاں عوامل میں شامل رہے۔
گروسری کی مہنگائی کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی فرق اہم ہے۔
اگر کسی چیز کی قیمت پہلے ہی کئی سال کی مہنگائی کے باعث بہت بڑھ چکی ہو اور اگلے سال اس میں مزید 3.1 فیصد اضافہ ہو جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چیز سستی ہوگئی ہے۔اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قیمت پہلے کی نسبت کم رفتار سے بڑھ رہی ہے۔اسی لیے سرکاری اعداد و شمار میں “inflation cooling” کی خبر سننے کے باوجود صارف کو سپر مارکیٹ کے checkout counter پر فوری ریلیف محسوس ہونا ضروری نہیں۔
مہنگائی نے عام صارفین کو اپنی shopping strategy تبدیل کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔
مقامی میڈیا سے گفتگو میں Halifax کے shopper Brennan Dempsey نے بتایا کہ خوراک مہنگی ہونے کے بعد وہ نسبتاً سستی خریداری کے لیے Walmart، بڑی مقدار میں اشیا لینے کے لیے Costco اور کھانے کو freeze کرکے زیادہ عرصے تک استعمال کرنے جیسے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔
وہ مختلف stores کے نرخوں کا موازنہ کرنے، deals تلاش کرنے اور صرف ضروری اشیا خریدنے پر بھی زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مہنگائی صرف قیمتوں کے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے کینیڈین خاندانوں کے روزمرہ خریداری کے رویے بھی تبدیل کر دیے ہیں۔
مقامی میڈیا کی ایک عملی shopping exercise میں cereal، پھل، pasta، bananas اور bread سمیت چند عام اشیا کی خریداری کا بل 99.67 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ خریداری کا سامان بمشکل دو چھوٹے تھیلوں میں آیا۔یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ سرکاری inflation rate اور صارف کے روزمرہ تجربے میں فرق کیوں محسوس ہوتا ہے۔
خوراک کی قیمتوں کا دباؤ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب کینیڈین گھرانے پہلے ہی housing، transportation، insurance، utilities اور دیگر بنیادی ضروریات کے بڑھتے اخراجات سے نمٹ رہے ہیں۔
جولائی میں headline inflation 3.0 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ gasoline prices میں سالانہ تبدیلی بھی مجموعی CPI پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں شامل رہی۔ چنانچہ گروسری میں چند ڈالر کا اضافی خرچ اکیلا مسئلہ نہیں ہوتا؛ جب یہی دباؤ رہائش، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری اخراجات کے ساتھ ملتا ہے تو گھرانے کی disposable income مزید محدود ہو جاتی ہے۔
مسلسل مہنگی ہوتی خوراک کا اثر خاص طور پر بڑے خاندانوں، بزرگ شہریوں اور مقررہ آمدنی پر گزارہ کرنے والے افراد پر نمایاں ہو سکتا ہے۔
گروسری کی سالانہ مہنگائی مسلسل 18 ماہ سے مجموعی افراطِ زر سے زیادہ رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خوراک اب بھی کینیڈین گھریلو بجٹ کے لیے ایک بڑا مالی دباؤ ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گروسری کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار جون کے 3.9 فیصد سے کم ہو کر جولائی میں 3.1 فیصد ہوگئی ہے۔لیکن صارف کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ قیمتیں کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
فی الحال جواب یہی ہے کہ مہنگائی کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے، لیکن گروسری سستی نہیں ہوئی۔
کینیڈا میں خوراک کی قیمتوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اب بھی لاکھوں گھرانوں کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کر رہا ہے، اور عام صارف کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ محدود آمدنی میں بڑھتی ہوئی بنیادی ضروریات کو کیسے پورا کیا جائے۔
کینیڈا میں گروسری کی مہنگائی کی رفتار شاید ٹھنڈی پڑ رہی ہو، مگر کینیڈین خاندانوں کے لیے سپر مارکیٹ کا بل ابھی بھی گرم ہے
