کینیڈین شہریت کے نئے دروازے کھل گئے :  6,100 سے زائد افراد کو ثبوتِ شہریت جاری، 51 فیصد امریکہ میں پیدا ہوئے

Spread the love

بل C-3 کے بعد شہریت بذریعہ نسب کے دعووں میں بڑا اضافہ — 121,800 سے زائد درخواستیں زیرِ التوا، پروسیسنگ ٹائم تقریباً 25 ماہ تک پہنچ گیا

رپورٹ: محبوب علی شیخ

کینیڈا کے شہریت قوانین میں تاریخی تبدیلی کے بعد ہزاروں افراد کے لیے کینیڈین شہریت کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔ نئے قواعد کے تحت 6,100 سے زائد افراد کو Citizenship Certificate جاری کیا جا چکا ہے، جبکہ ان منظور شدہ کیسز میں تقریباً 51 فیصد افراد امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں۔

یہ بڑی تبدیلی Bill C-3 کے نفاذ کے بعد سامنے آئی ہے، جو 15 دسمبر 2025 سے نافذ ہوا۔ نئے قانون نے بیرونِ کینیڈا پیدا ہونے والی نسلوں کے لیے شہریت منتقل ہونے پر عائد سابق First-Generation Limit میں بڑی تبدیلی کی ہے، جس کے نتیجے میں دوسری اور بعض مزید بیرونِ ملک پیدا ہونے والی نسلوں کے لیے بھی کینیڈین شہریت ثابت کرنے کا راستہ کھلا ہے۔

امریکہ سرفہرست، میکسیکو دوسرے نمبر پر

IRCC کے 31 مئی 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، نئے توسیع شدہ قواعد کے تحت منظور ہونے والے Citizenship Certificate کیسز میں:

  • امریکہ میں پیدا ہونے والے افراد: 51 فیصد
  • میکسیکو: 20.5 فیصد
  • بولیویا: 6.1 فیصد
  • برطانیہ اور اس کے زیرِ انتظام علاقوں سے: 3.2 فیصد
  • بیلیز: 2.2 فیصد

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قانون میں تبدیلی کا نمایاں اثر فی الحال شمالی اور جنوبی امریکہ میں موجود ان خاندانوں پر پڑ رہا ہے جن کی خاندانی جڑیں کسی مرحلے پر کینیڈا سے جا ملتی ہیں۔

نئے قانون کے بعد ایک اہم غلط فہمی بھی سامنے آئی ہے۔ صرف یہ معلوم ہونا کہ خاندان میں کوئی شخص کبھی کینیڈین تھا، شہریت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

درخواست گزار کو اپنے کینیڈین والد، والدہ، دادا، دادی، نانا، نانی یا متعلقہ parental ancestor تک مکمل قانونی اور دستاویزی سلسلۂ نسب ثابت کرنا پڑ سکتا ہے۔

پیدائش، شادی، والدین سے رشتہ اور کینیڈین شہریت کے تاریخی ریکارڈ سمیت متعدد سرکاری دستاویزات درکار ہو سکتی ہیں۔ یعنی genealogy تلاش کرنا صرف پہلا قدم ہے؛ اصل امتحان ہر نسل کو اگلی نسل سے قانونی طور پر جوڑنا ہے۔

Citizenship Certificate ملنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ فرد اسی دن کینیڈین شہری بنتا ہے۔ بعض معاملات میں فرد قانون کے تحت پہلے ہی کینیڈین شہری ہو سکتا ہے، جبکہ Citizenship Certificate اس شہریت کا سرکاری ثبوت فراہم کرتا ہے۔

اسی لیے اہل ہونے کا شبہ رکھنے والے افراد کو اپنی حیثیت کی باقاعدہ تصدیق کے لیے Proof of Canadian Citizenship کے طریقہ کار سے گزرنا چاہیے۔

نئے قانون کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بیرونِ کینیڈا پیدا ہونے والی ہر آنے والی نسل کو خودکار طور پر غیر محدود کینیڈین شہریت مل جائے گی۔

15 دسمبر 2025 یا اس کے بعد بیرونِ کینیڈا پیدا ہونے والے بعض بچوں کے لیے، اگر کینیڈین والد یا والدہ خود بھی بیرونِ کینیڈا پیدا ہوئے ہوں، تو کینیڈین والد یا والدہ کو بچے کی پیدائش سے پہلے کم از کم 1,095 دن، یعنی تقریباً تین سال، کینیڈا میں جسمانی موجودگی کا substantial connection ثابت کرنا پڑ سکتا ہے۔

نئے قانون کے بعد Citizenship Certificate کی درخواستوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2026 میں دستیاب رپورٹنگ کے مطابق processing time تقریباً 25 ماہ تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مئی میں یہ تقریباً 12 ماہ اور جولائی میں 19 ماہ کے قریب بتایا گیا تھا۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 121,800 Citizenship Certificate applications فیصلے کی منتظر ہیں۔ ان میں صرف Bill C-3 کے تحت نئے اہل افراد ہی شامل نہیں بلکہ replacement certificates اور دیگر proof-of-citizenship کیسز بھی شامل ہیں۔

بیرونِ کینیڈا اور امریکہ سے درخواست دینے والوں کے لیے ڈاک اور اضافی کارروائی کے باعث مزید وقت بھی لگ سکتا ہے۔

امریکہ میں پیدا ہونے والے درخواست گزاروں کا 51 فیصد حصہ اس تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ ماہرین نے امریکی درخواست گزاروں کی بڑھتی دلچسپی کو مختلف عوامل سے جوڑا ہے، جن میں امریکہ کا موجودہ سیاسی و جغرافیائی ماحول اور کینیڈا کے citizenship-by-descent قوانین میں تاریخی تبدیلی شامل ہیں۔

تاہم یہ کسی ایک سرکاری وجہ کا اعلان نہیں بلکہ ماہرین کی تشریح ہے۔ ہر درخواست گزار کے کینیڈین شہریت کا دعویٰ کرنے کی ذاتی وجہ مختلف ہو سکتی ہے۔

اس قانون کا ایک دلچسپ تاریخی پہلو اکاڈین نسل سے تعلق رکھنے والے امریکی خاندان بھی ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں موجودہ Canadian Maritimes سے بے دخل کیے گئے متعدد فرانسیسی بولنے والے Acadians بعد ازاں امریکہ کے مختلف علاقوں، خصوصاً Louisiana، میں آباد ہوئے۔

اب ان خاندانوں کی بعض نسلوں کے لیے اپنے تاریخی کینیڈین نسب کو دستاویزی طور پر ثابت کرنا نئی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ Citizenship Certificate سفری دستاویز یا پاسپورٹ نہیں ہے۔ یہ کینیڈین شہریت ثابت کرنے والی بنیادی سرکاری دستاویز ہے، جس کی بنیاد پر اہل شخص Canadian passport سمیت دیگر متعلقہ سہولیات کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

اگر آپ کے والد، والدہ، دادا، دادی، نانا، نانی یا اس سے اوپر کی نسل میں کوئی شخص کینیڈین تھا تو صرف خاندانی معلومات کی بنیاد پر خود کو یقینی طور پر Canadian citizen قرار نہ دیں۔

تاریخی citizenship laws، ہر نسل کی قانونی حیثیت، renunciation، revocation اور دیگر قانونی عوامل نتیجے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

اس لیے سب سے محفوظ راستہ یہ ہے کہ پہلے IRCC کی سرکاری eligibility information کا جائزہ لیا جائے، پھر ancestry اور supporting documents مکمل کیے جائیں اور ضرورت پڑنے پر Proof of Canadian Citizenship کے لیے باقاعدہ درخواست دی جائے۔

کینیڈا کے شہریت قانون میں یہ تبدیلی ہزاروں خاندانوں کے لیے نئی امید ضرور ہے، لیکن شہریت کا دروازہ صرف نسب سے نہیں بلکہ درست قانونی اور دستاویزی ثبوت سے کھلتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے