کینیڈا کی نئی امیگریشن پالیسی، غیر ملکی کارکنوں کے لیے اوپن ورک پرمٹ اور مستقل رہائش کا بڑا موقع

Spread the love

کینیڈا کی حکومت نے امیگریشن کے شعبے میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبہ مانیٹوبا میں پہلے سے موجود مخصوص عارضی غیر ملکی کارکنوں کے لیے نئی سہولت متعارف کرا دی ہے۔ اس فیصلے سے ان ہزاروں کارکنوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو پہلے سے کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں، مانیٹوبا میں کام کررہے ہیں اور مستقل رہائش حاصل کرنے کے عمل میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اس نئی پالیسی کا مقصد ایسے کارکنوں کو کینیڈا میں برقرار رکھنا ہے جو پہلے ہی صوبے کی معیشت اور مقامی آبادی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی ڈاکٹروں کے لیے کینیڈا میں نیا امیگریشن پروگرام متعارف

کینیڈین حکومت کے مطابق جو افراد پہلے سے ملک میں موجود ہیں اور جنہیں مانیٹوبا کی صوبائی حکومت مستقل رہائش کے لیے موزوں امیدوار سمجھتی ہے، انہیں اپنے مستقل رہائش کے عمل کے دوران قانونی طور پر کام جاری رکھنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔2700 کارکنوں کے لیے بڑی سہولت:
حکومتی معلومات کے مطابق نئی پالیسی سے قریباً 2700عارضی غیر ملکی کارکن فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ فیصلہ ان افراد کے لیے خاص طور پر اہم ہے جن کا کام کرنے کا اجازت نامہ ختم ہونے کے قریب ہے یا ختم ہو چکا ہے، لیکن وہ مانیٹوبا میں رہتے ہوئے مستقل رہائش کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

نئی سہولت کے تحت اہل افراد کو کھلے کام کا اجازت نامہ حاصل کرنے کا موقع دیا جائےگا۔ اس اجازت نامے کی مدد سے وہ کینیڈا میں قانونی طور پر کام جاری رکھ سکیں گے، جبکہ ان کے مستقل رہائش کے معاملے پر کارروائی آگے بڑھتی رہے گی۔

کون لوگ اس سہولت کے اہل ہوں گے؟
کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت ہر غیر ملکی کارکن کے لیے نہیں ہے، اس کے لیے مخصوص شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔vپاکستانی شہریوں کے لیے اہم وضاحت:
پاکستان میں موجود افراد کے لیے اس خبر کو درست تناظر میں سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

اس نئی پالیسی کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں بیٹھا کوئی بھی شخص اس سہولت کی بنیاد پر نیا کام کرنے کا اجازت نامہ حاصل کرکے مانیٹوبا جا سکتا ہے۔

یہ سہولت بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جو پہلے سے کینیڈا میں موجود ہیں، مانیٹوبا میں کام کررہے ہیں اور مقررہ تاریخ تک صوبائی نامزدگی کے عمل میں شامل ہو چکے تھے۔

اس لیے پاکستان سے کینیڈا جانے کے خواہش مند افراد کو اسے نئی ملازمت یا بیرون ملک سے کینیڈا آنے کی نئی اسکیم نہیں سمجھنا چاہیے۔

کینیڈا کی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلی:
مانیٹوبا کی یہ نئی سہولت کینیڈا کی مجموعی امیگریشن حکمت عملی میں آنے والی تبدیلیوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

کینیڈین حکومت ایک طرف ملک میں عارضی رہائشیوں کی تعداد کو محدود کرنے کی کوشش کررہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے افراد کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جو پہلے سے کینیڈا میں موجود ہیں، وہاں کام کررہے ہیں اور ملک کی معیشت میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

اس پالیسی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا اب ایسے غیر ملکی کارکنوں کو ملک میں برقرار رکھنے پر توجہ دے رہا ہے جن کی مہارت اور کام کی پہلے ہی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور جو مستقل رہائش کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔

پالیسی کب تک نافذ رہے گی؟
واضح رہے کہ یہ نئی پالیسی 6 اگست 2026 سے نافذ کی گئی ہے اور اس کی موجودہ مدت 31 دسمبر 2027 تک مقرر کی گئی ہے۔

تاہم کینیڈین حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ حالات کے مطابق اسے مقررہ تاریخ سے پہلے بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔

کینیڈا میں موجود عارضی غیر ملکی کارکنوں کے لیے یہ فیصلہ ایک اہم موقع ضرور ہے، لیکن اس کا فائدہ صرف وہی افراد اٹھا سکتے ہیں جو حکومت کی مقرر کردہ شرائط پوری کرتے ہوں۔

قریباً 2700 کارکنوں کے لیے کام جاری رکھنے کا یہ راستہ اس وقت خاص اہمیت رکھتا ہے جب کینیڈا اپنی امیگریشن پالیسی کو زیادہ منظم اور ضرورت کے مطابق بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے