دلجیت دو سانجھ جیتے جی امر ہوگیا ہے۔نوے ہزار سے زائد افراد کی گنجائش والے ومبلے اسٹیڈیم کو بھرنا فنکار کا خواب ہوتا ہے۔اسے مائیکل جیکسن جیسے فنکار ہی بھر سکتے ہیں۔بڑے بڑے فنکار بھی اسے دو چار فنکاروں کوساتھ ملاکر بھر پاتے ہیں۔ دلجیت پہلا پنجابی سائوتھ ایشین فنکار ہے جس نے تنہا اپنے زور پر اسے بھر دیاہے۔اس شام کے مناظر آپ دیکھ چکے ہونگے۔لگتا تھا چاند تارے سب زمین پراتر آئے ہیں۔پنجابی کلچر کم پہلے بھی نہیں تھا مگر دلجیت نے اس میں قیامت کی بانسری پھونک دی ہے۔
جو مقام دلجیت کو ملا ہے یہ اس سے پہلے گرداس مان کا تھا۔اب بھی ہے۔وہ سراپا پنجاب ہے۔اسکی باتوں سے مکئی کی روٹی اور ساگ کی مہک آتی ہے۔اسکے گیتوں میں ہل چلاتے بیلوں کی ٹلیاں سنائی دیتی ہیں۔اشفاق احمد نے پی ٹی وی کی ایک نشست میں شوکت علی کیلئے کہا تھا، شوکت گائیک نہیں ہے یہ گانے کا سادھو ہے۔یہ بات گرداس مان پر برابر بیٹھتی ہے۔وہ سادھو ہے اور سادھو کسی موازنے میں نہیں آتا۔خود دلجیت بھی برا مان جاتا ہے جب کوئی اس کا موازنہ گرداس مان سے کرتا ہے۔وہ کہتا ہے، گرداس مان فلموں اور گانوں سے بہت اوپر کی بات ہیں۔
کسی کے ہوتے ہوئے کوئی کم ہی پیدا ہوتا ہے مگر گرداس مان کے ہوتے دلجیت پیدا ہوگیا ہے۔ عاجزی سچے آرٹسٹ کی علامت ہوتی ہے۔گرداس مان کے ساتھ مل کر گاتا ہے تو پہلے کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔گستاخی دی مافی چاہناواں گرو جی۔پھر جب گاتا ہے تو لگتا ہے راوی اور چناب مل کر گا رہے ہیں۔یقین نہ آئے تو انڈین کوک اسٹوڈیو کا گانا ’کی بنو دنیا دا‘ سن لیں۔اس کا ایک بند انسان کا دل پکڑ لیتا ہے۔سانوں سودا نئیں پُکدا، راوی توں چناب پچھ دا، کی حال اے ستلج دا۔
پنجاب کے پانچ دریا ایک لکیر نے بانٹ دیے، مگر لوگوں نے دلجیت کی صورت میں ایک چھٹا دریا بنا لیا ہے جو بغیر کسی رکاوٹ کے دونوں طرف بہتاہے۔ہرطرف بہتا ہے۔ہماری طرف اکثر بلھے شاہ کے کلام میں بہہ کر آتا ہے۔کبھی وارث کی ہیر بن کر نکل آتا ہے۔اب تو لائل پور کے نصرت فتح علی خان کی آواز اوڑھ کر ہر طرف جارہا ہے۔ومبلے میں اس نے سانسوں کی مالا پہ سمروں میں گایا تو 92 ہزار آوازیں اسکی آواز میں شامل ہوگئیں۔اس میں گوری مائوں سے جنم لینے والے پنجابیوں کی آوازیں بھی تھیں۔بلاشبہ دلجیت پنجاب کا ایسا پاٹ بن گیا ہے جہاں سارے سوتے آکر گر رہے ہیں۔
