ٹرمپ کا ایک اور تاریخی قدم  دستخط والے 100 ڈالر نوٹ نے امریکہ میں نئی تاریخ رقم کر دی

Spread the love

امریکہ کی 250ویں سالگرہ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط والی کرنسی متعارف کرانے کی تیاری، حامیوں میں خوشی کی لہر، ملک بھر میں نئی بحث کا آغاز

رپورٹ: محبوب علی شیخ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایک منفرد اور تاریخی اقدام کے ذریعے ملکی سیاست اور عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ امریکہ کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں پہلی مرتبہ صدر ٹرمپ کے دستخط والے 100 ڈالر کے نوٹ کی تصویر منظرِ عام پر آئی ہے، جسے ان کے حامی امریکی تاریخ کے ایک یادگار لمحے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر نئے 100 ڈالر کے نوٹ کی تصویر شیئر کی، جس پر ان کے دستخط نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدام امریکہ کی ڈھائی سو سالہ تقریبات کو تاریخی انداز میں منانے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔

روایتی طور پر امریکی کرنسی پر صرف وزیر خزانہ اور امریکی خزانچی کے دستخط درج ہوتے ہیں، لیکن اس مرتبہ صدر کے دستخط شامل کیے جانے کو امریکی تاریخ میں ایک منفرد پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں، سرمایہ کاری، روزگار میں اضافے اور امریکی معیشت کی بحالی کے اقدامات نے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی، اس لیے امریکہ کی 250ویں سالگرہ پر ان کے دستخط والی کرنسی جاری کرنا ایک موزوں اور تاریخی فیصلہ ہے۔

امریکی خزانچی برانڈن بیچ نے بھی اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نئے 100 ڈالر کے نوٹ جلد گردش میں لائے جانے کی توقع ہے۔

ٹرمپ کے حامی اس پیش رفت کو ایک ایسے رہنما کے اعزاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس نے “امریکہ فرسٹ” کی پالیسی کو عالمی سطح پر نمایاں کیا، ملکی صنعتوں کو فروغ دیا اور امریکی معیشت کو نئی سمت دینے کی کوشش کی۔

دوسری جانب بعض آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اقدام صرف صدر کے دستخط تک محدود ہے اور امریکی قوانین کے مطابق زندہ شخصیات کی تصاویر کرنسی پر شائع نہیں کی جا سکتیں۔ اگر مستقبل میں صدر کی تصویر کسی نوٹ پر شامل کرنے کی تجویز دی جاتی ہے تو اس کے لیے کانگریس سے قانون سازی درکار ہوگی۔

کانگریس کے بعض ارکان نے امریکہ کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر یادگاری 250 ڈالر کے نوٹ پر صدر ٹرمپ کی تصویر شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے، تاہم اس پر ابھی سیاسی اتفاقِ رائے موجود نہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا نام پہلے ہی متعدد قومی منصوبوں، خصوصی پاسپورٹس، وفاقی اقدامات اور دیگر سرکاری منصوبوں کے ساتھ منسلک ہو چکا ہے، جبکہ اب کرنسی پر ان کے دستخط کا اضافہ بھی ان کی سیاسی شناخت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی ریزرو کرنسی امریکی ڈالر میں ہونے والی ہر علامتی تبدیلی عالمی مالیاتی منڈیوں، سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی تجارت کی خصوصی توجہ حاصل کرتی ہے۔ اسی لیے صدر ٹرمپ کے دستخط والے 100 ڈالر کے نوٹ نے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں دلچسپی اور بحث کو جنم دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے