ورلڈ کپ کے لیے آنے والے بعض افراد نے اسائلم کلیمز دائر کر دیے، گھانا کولمبیا، ایکواڈور، مصر، کینیا ، نیپال ، نائجیریا ،پاکستان سمیت متعدد ممالک کے شہری بھی شامل
IRCC: 26,111 منظور شدہ FIFA-related ویزہ درخواستوں میں سے 175 افراد نے بعد ازاں پناہ کی درخواست دی، تمام کیسز کی قانونی جانچ ابھی باقی ہے
خصوصی رپورٹ: محبوب علی شیخ
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران کینیڈا آنے والے بعض غیر ملکی شہریوں کی جانب سے بعد ازاں پناہ (Asylum) کی درخواستیں جمع کرانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (IRCC) کے مطابق ان افراد نے کینیڈا آنے سے قبل اپنی Temporary Residence درخواستوں میں “FIFA World Cup 26” کو اپنے سفر کا مقصد ظاہر کیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 26,111 افراد کی ایسی عارضی رہائشی درخواستیں منظور ہوئیں جن میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کا حوالہ دیا گیا تھا۔ ان میں سے 20 جولائی 2026 تک 175 افراد نے بعد ازاں کینیڈا میں Asylum Claims جمع کرائیں۔
اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح تقریباً 0.67 فیصد بنتی ہے، یعنی تقریباً ہر 149 منظور شدہ FIFA-related درخواستوں میں سے ایک شخص نے بعد میں پناہ کی درخواست دی، جبکہ 99 فیصد سے زیادہ افراد نے ایسی کوئی درخواست جمع نہیں کرائی۔
کن ممالک کے شہری شامل ہیں؟
IRCC کے مطابق پناہ کی درخواست دینے والوں میں متعدد ممالک کے شہری شامل ہیں، جن میں:گھانا، کولمبیا، ایکواڈور، مصر، کینیا، نیپال ، نائجیریا ، سینیگال ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، برونڈی ، چین اور دیگر ممالک شامل ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق گھانا سے 25 درخواستیں، کولمبیا سے 15، مصر سے 15 ، کینیا سے 15 جبکہ دیگر ممالک سے بھی مختلف تعداد میں پناہ کی درخواستیں موصول ہوئیں۔
یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ Asylum Claim جمع کرانا ہرگز اس بات کا ثبوت نہیں کہ درخواست منظور ہو گئی ہے یا درخواست گزار کو پناہ مل گئی ہے۔
کینیڈا میں ہر درخواست کا انفرادی طور پر امیگریشن اور ریفیوجی قوانین کے تحت تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے، اور صرف وہی افراد تحفظ حاصل کرتے ہیں جو قانونی معیار پر پورا اترتے ہیں۔
دستیاب معلومات یہ ثابت نہیں کرتیں کہ تمام 175 افراد صرف تماشائی یا فٹبال فینز تھے۔
فیفا ورلڈ کپ کے لیے کینیڈا آنے والوں میں کھلاڑی، کوچز، آفیشلز، میڈیا نمائندگان، اسپانسرز، طبی عملہ اور دیگر متعلقہ افراد بھی شامل ہو سکتے تھے، جبکہ IRCC نے ان 175 درخواست گزاروں کی کیٹیگری کے حوالے سے کوئی تفصیلی تقسیم جاری نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ مستقبل میں بڑے عالمی کھیلوں اور بین الاقوامی تقریبات کے دوران وزیٹر اسکریننگ، عارضی ویزوں کے اجرا اور بعد ازاں دائر ہونے والی پناہ کی درخواستوں پر نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
تاہم صرف 175 پناہ کی درخواستوں کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ درخواستیں غلط، بے بنیاد یا پہلے سے منصوبہ بند تھیں۔ ہر کیس کا فیصلہ متعلقہ کینیڈین ادارے آزادانہ طور پر دستیاب شواہد اور قانون کے مطابق کرتے ہیں
