ملٹن میئر شپ کی امیدوار زینب عظیم کی “امید کی سیاست” کو فروغ دینے کی مہم

Spread the love

کینیڈا (محبوب علی شیخ) — ملٹن کی میئر کے عہدے کی امیدوار زینب عظیم نے “امید کی سیاست” کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانی کسی ایک شخصیت کے گرد نہیں بلکہ عوام کے گرد ہونی چاہیے۔

زینب عظیم کی میئر آف ملٹن انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز اتوار کی دوپہر ملٹن کے سینٹ فرانسس زیویئر کیتھولک اسکول میں ہوا، جہاں ہال توانائی سے بھرپور تھا، مگر اس سے بھی بڑھ کر مقصد کا واضح احساس موجود تھا۔ نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہوئے، پُراعتماد انداز میں کھڑے ہوئے اور واضح پیغام دیا کہ ملٹن کا مستقبل انتظار کرنے کی چیز نہیں بلکہ اسے خود تعمیر کرنا ہے۔

اپنے خطاب میں زینب عظیم نے کہا کہ نوجوانوں، رضاکاروں اور مختلف کمیونٹی تنظیموں سے وابستہ افراد پر مشتمل ایک متنوع گروپ امید اور عزم کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہوا ہے تاکہ شہر میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی ترقی الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہوتی ہے۔ اپنے خاندانی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے انہیں سکھایا کہ نتائج، باتوں سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، “صرف بات کرنا کافی نہیں، ہمیں عمل کے ذریعے تبدیلی دکھانا ہوگی۔”

زینب عظیم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شہریوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششیں اس یقین کو بحال کر سکتی ہیں کہ تبدیلی ممکن ہے۔ انہوں نے ایک بزرگ شہری کی مثال دی جو ابتدا میں شکوک کا شکار تھے، لیکن رضاکاروں کی محنت دیکھ کر وہ بھی اس مہم کا حصہ بن گئے۔

انہوں نے کہا، “یہ مہم کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ عوام کی ہے،” اور مزید کہا کہ اس کا مقصد ایسا شہر بنانا ہے جہاں لوگ اپنے پیاروں کے قریب رہ سکیں، باعزت روزگار حاصل کریں اور معیاری زندگی گزار سکیں۔

زینب عظیم نے کہا کہ 26 اکتوبر 2026 کو ملٹن میں امید کی جیت ہوگی اور اب تبدیلی کا وقت آ چکا ہے۔ ان کے مطابق پیغام واضح ہے کہ ملٹن کا مستقبل پہلے ہی حرکت میں آ چکا ہے۔

شہری مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے طویل روزانہ سفر، ٹریفک کا دباؤ، ناقص پبلک ٹرانسپورٹ اور تفریحی مواقع کی کمی کو ایسے عوامل قرار دیا جو شہریوں کا وقت اور توانائی ضائع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “وقت ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور ہمیں اسے محفوظ بنانا ہوگا۔”

انہوں نے وعدہ کیا کہ ان کی ترجیحات میں مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا، قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا اور سستی تفریحی سہولیات فراہم کرنا شامل ہوگا تاکہ شہری صرف زندہ رہنے کے بجائے خوشحال زندگی گزار سکیں۔

زینب عظیم نے کہا کہ اصل کامیابی انتخابات جیتنے میں نہیں بلکہ عوامی مسائل حل کرنے میں ہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگ محض تماشائی بننے کے بجائے عملی طور پر حصہ لیں اور اپنی کمیونٹی کی تعمیر میں کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا، “تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی تبدیلی عام لوگوں کی اجتماعی کوششوں سے ممکن ہوئی ہے۔ امید خود نہیں آتی، ہمیں اسے پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملٹن کو امکانات کے شہر سے حقیقت کے شہر میں بدلا جائے۔”

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ زینب عظیم ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جس کا پس منظر عوامی خدمت سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے والد عظیم رضوی ماضی میں انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں جبکہ ان کی والدہ ڈاکٹر رابعہ عظیم ایک طبی پیشہ ور ہیں۔

زینب عظیم کا ذاتی سفر بھی ان کے پیغام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ وہ ملٹن میں اپنی دادی کی زیرِ تربیت پروان چڑھیں، جو ایک معلمہ تھیں اور جنہوں نے ان میں خدمت اور تعلیم کی اقدار پیدا کیں۔ مقامی مونٹیسوری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے سے لے کر ملٹن یونائیٹڈ کی فٹبال ٹیم کا حصہ بننے تک، ٹیم ورک اور عوامی سطح پر کام کرنے کی سمجھ انہیں کم عمری میں ہی حاصل ہو گئی تھی۔

اربن الائنس فار ریس ریلیشنز اور نیشنل ایجوکیشن پالیسی سینٹر جیسی تنظیموں کے ساتھ ان کا کام مساوات اور شمولیت کے لیے ان کے مستقل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

بعد ازاں ان کا سفر ملٹن کی حدود سے باہر بھی پھیل گیا۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں بطور ٹیچنگ فیلو، وہ پالیسی تجزیہ، معاشیات اور عوامی شمولیت پر مبنی تحریکوں کی قیادت کے فن کی تعلیم دیتی ہیں—ایسی مہارتیں جو وہ اب اپنے شہر میں واپس لا رہی ہیں۔ ان کا تجربہ ترقیاتی نیورو سائنس میں تحقیق، کینیڈا کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے دفتر میں عوامی خدمات، اور اقوام متحدہ کے اسپیس 4 ویمن پروگرام کے ذریعے عالمی سطح پر شمولیت تک پھیلا ہوا ہے۔

ایک محقق اور مصنفہ کے طور پر، وہ تعلیم کے موضوع پر تین کتابوں کی مصنفہ ہیں جبکہ ہارورڈ کینیڈی اسکول سے ان کی ایک اور کتاب زیرِ اشاعت ہے جو عوامی بنیادوں پر سیاست کے موضوع پر ہے۔ زینب عظیم علمی گہرائی اور عوامی سطح پر مضبوط تعلق کا ایک منفرد امتزاج پیش کرتی ہیں۔ نیویارک میں ایک اہم انتخابی مہم میں ان کی حالیہ شمولیت نے جدید، کمیونٹی پر مبنی سیاسی حکمت عملی کو مزید نکھارا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے