امریکا و اسرائیل فوجی تعلقات میں تاریخی توسیع؟ کانگریس کا نیا بل متنازع بن گیا

Spread the love

 امریکی کانگریس میں ایک نئی تجویز پر پیش رفت جاری ہے جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرا اور مستقل بنا سکتی ہے۔ 

ناقدین کے مطابق اگر یہ تجویز قانون بن گئی تو دونوں ممالک کے فوجی اور دفاعی ادارے ایک دوسرے سے اس حد تک جڑ جائیں گے کہ مستقبل میں اس تعلق کو محدود کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

امریکی کانگریس کے سالانہ نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) 2027ء میں شامل سیکشن 224 کے تحت امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جدید فوجی ٹیکنالوجی، تحقیق، دفاعی پیداوار اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔

اس تجویز کے تحت امریکی وزیرِ دفاع ایک خصوصی عہدیدار مقرر کریں گے جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون کی نگرانی کرے گا، اس تعاون میں مصنوعی ذہانت (AI)، کوانٹم مشین لرننگ، خودکار جنگی نظام (Autonomous Systems)، سائبر دفاع اور الیکٹرانک وار فیئر، میزائل دفاعی نظام، ڈرونز اور انسدادِ ڈرون ٹیکنالوجی، زیرِ زمین سرنگوں اور خطرات کا مقابلہ، بائیو ٹیکنالوجی اور دفاعی طبی نظام، فوجی ڈیٹا شیئرنگ اور نیٹ ورک انٹیگریشن کے شعبے شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعاون صرف اسلحے کی فراہمی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مشترکہ تحقیق، تیاری اور دفاعی ڈھانچے کی سطح تک پہنچ جائے گا۔

یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر شدید بحث جاری ہے، خصوصاً غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں۔

بعض امریکی سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ یہ قانون اسرائیل کی حمایت کو ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ امریکی قومی سلامتی کے مستقل ڈھانچے کا حصہ بنا دے گا۔

ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے اعلان کیا ہے کہ اس شق کو بل سے نکالنے کی کوشش کروں گا، جبکہ سابق رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر نے اسے غیر ملکی حکومت کے اثر و رسوخ کی مثال قرار دیا ہے۔

دوسری جانب معروف امریکی مبصر ٹکر کارلسن سمیت متعدد قدامت پسند شخصیات بھی اسرائیل کے لیے امریکی پالیسیوں پر تنقید کر رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے