امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور محکمہ انصاف کے درمیان ہونے والے ایک متنازع عدالتی تصفیے کی مزید جانچ کا حکم دے دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا کی ایک جج نے اس معاہدے پر نظرثانی کا حکم جاری کیا ہے، جو ایک مقدمے کے تصفیے سے متعلق تھا۔ یہ درخواست 35 ریٹائرڈ وفاقی ججوں کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملے میں ممکنہ طور پر عدالتی عمل کو متاثر کرنے یا دھوکا دہی کے شواہد موجود ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ تصفیہ انٹرنل ریونیو سروس (IRS) کے خلاف دائر ایک بڑے مالیاتی مقدمے کے خاتمے کے لیے کیا گیا تھا، جس کی مالیت تقریباً 10 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ہی انتظامیہ کے خلاف یہ مقدمہ اس الزام کے تحت دائر کیا تھا کہ ان کے ٹیکس ریکارڈز غیر قانونی طور پر افشا کیے گئے اور حساس معلومات میڈیا تک پہنچائی گئیں۔
معاہدے کے تحت تقریباً 1.8 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کرنے کی بھی تجویز تھی، جس کا مقصد مبینہ طور پر ان افراد کو معاوضہ دینا تھا جو سیاسی بنیادوں پر حکومتی کارروائیوں سے متاثر ہوئے۔
تاہم اس معاہدے پر بعد ازاں شدید تنقید سامنے آئی، اور ناقدین نے اسے غیر معمولی، غیر شفاف اور ممکنہ طور پر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا اقدام قرار دیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد اس معاملے کی مزید قانونی جانچ پڑتال کا آغاز ہو گیا ہے۔
