اونٹاریو میں طلبہ کے لیے مالی امداد کا نیا دور، گرانٹس میں بڑی کٹوتی، قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا

Spread the love

OSAP میں تاریخی تبدیلیاں نافذ: کیا اعلیٰ تعلیم اب صرف قرض لے کر ہی ممکن ہوگی؟

یکم اگست سے نئی پالیسی لاگو، گرانٹس 85 فیصد سے کم ہو کر زیادہ سے زیادہ 25 فیصد، طلبہ تنظیموں کا انتباہ: ہزاروں نوجوان تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوسکتے ہیں

خصوصی رپورٹ: محبوب علی شیخ

اونٹاریو میں یکم اگست 2026 سے Ontario Student Assistance Program (OSAP) میں کئی اہم اور متنازع تبدیلیاں نافذ ہوگئی ہیں، جنہوں نے ہزاروں موجودہ اور نئے طلبہ کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت صوبائی مالی امداد میں ناقابلِ واپسی گرانٹس کا حصہ زیادہ سے زیادہ صرف 25 فیصد جبکہ کم از کم 75 فیصد امداد قرض کی صورت میں دی جائے گی۔

یہ تبدیلی صرف مالی امداد کے فارمولے میں ردوبدل نہیں بلکہ اونٹاریو میں اعلیٰ تعلیم کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آئی ہے۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ بڑھتی مہنگائی، کرایوں، خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات کے اس دور میں حکومت کا یہ فیصلہ کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے یونیورسٹی اور کالج کی تعلیم مزید مشکل بنا دے گا۔

اس کے ساتھ ہی صوبائی حکومت نے تقریباً سات برس بعد سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں پر نافذ ٹیوشن فیس فریز بھی ختم کر دیا ہے۔ اب اداروں کو آئندہ تین برس تک ہر سال دو فیصد تک فیس بڑھانے کی اجازت ہوگی، جس سے طلبہ کے مالی دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

ماضی میں ضرورت مند طلبہ کو ملنے والی صوبائی امداد میں گرانٹس کا حصہ بعض صورتوں میں 85 فیصد تک ہوسکتا تھا، لیکن نئی پالیسی کے بعد یہی حصہ کم ہو کر زیادہ سے زیادہ 25 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب زیادہ تر مالی امداد قرض کی صورت میں ہوگی، جسے تعلیم مکمل ہونے کے بعد واپس کرنا ہوگا۔

طلبہ نمائندوں کے مطابق اس تبدیلی کے نتیجے میں نوجوانوں کو نہ صرف تعلیم کے دوران بلکہ گریجویشن کے بعد بھی برسوں تک قرضوں کے بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات گھر خریدنے، خاندان بنانے، مالی استحکام حاصل کرنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی تک محسوس ہوں گے۔

کیمبرین کالج میں سوشل سروس ورکر پروگرام کی طالبہ سیلینا مارسولے ان متاثرہ طلبہ میں شامل ہیں جنہیں نئی پالیسی کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھنے کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔

PTSD کے ساتھ زندگی گزارنے والی مارسولے کے مطابق گزشتہ سال انہیں تقریباً 8 ہزار ڈالر کی گرانٹ ملی تھی، لیکن نئے تخمینے کے مطابق ان کی ناقابلِ واپسی امداد کم ہو کر تقریباً 1 ہزار ڈالر رہ سکتی ہے، جبکہ باقی رقم قرض میں تبدیل ہو جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اب ان کے سامنے صرف دو راستے ہیں: مزید قرض لے کر آخری سمسٹر مکمل کریں یا تعلیم ادھوری چھوڑ کر ملازمت اختیار کریں تاکہ موجودہ قرض ادا کیا جا سکے۔

Ontario Undergraduate Student Alliance، College Student Alliance اور دیگر طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی صرف انتہائی کم آمدنی والے خاندانوں کو ہی نہیں بلکہ متوسط طبقے کو بھی متاثر کرے گی۔

680 طلبہ پر کیے گئے ابتدائی سروے کے مطابق:

  • تقریباً 65 فیصد طلبہ OSAP کو اپنی بنیادی مالی معاونت قرار دیتے ہیں۔
  • قریب نصف طلبہ نے گریجویشن کے بعد بڑھتے قرضوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:

  • صوبائی طالب علمی قرضوں کو بلاسود کیا جائے۔
  • قرض واپسی شروع کرنے سے پہلے موجودہ چھ ماہ کی رعایتی مدت بڑھا کر دو سال کی جائے تاکہ فارغ التحصیل نوجوان مالی طور پر مستحکم ہو سکیں۔

اونٹاریو حکومت کا کہنا ہے کہ پرانا OSAP ماڈل مالی طور پر دیرپا نہیں رہا تھا، کیونکہ مالی امداد لینے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ اور وفاقی گرانٹس کے نظام میں تبدیلیاں اس فیصلے کی بڑی وجوہات ہیں۔

حکومت نے پوسٹ سیکنڈری تعلیم کے شعبے میں 6.4 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس میں اداروں کی بنیادی فنڈنگ، زیادہ طلب والے پروگراموں میں نئی نشستیں اور مختلف تعلیمی شعبوں کے لیے اضافی معاونت شامل ہے۔

حکومت کے مطابق Student Access Guarantee کے تحت اہل کم آمدنی والے طلبہ کو ٹیوشن، لازمی فیس اور درسی کتب کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اضافی مدد بھی فراہم کی جائے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر کالج اور یونیورسٹیاں برسری، اسکالرشپ، ورک اسٹڈی اور دیگر مالی سہولیات بھی مہیا کر سکیں گی۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اداروں کو زیادہ فنڈنگ ملنا اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اگر طالب علم کو ناقابلِ واپسی امداد کم ملے اور قرض زیادہ لینا پڑے تو اعلیٰ تعلیم تک مساوی رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔

یکم اگست 2026 سے نافذ ہونے والی یہ پالیسی صرف OSAP کے اعدادوشمار تبدیل نہیں کرے گی بلکہ اس کا اصل امتحان آنے والے برسوں میں ہوگا، جب یہ واضح ہوگا کہ آیا کم اور متوسط آمدنی والے ہزاروں نوجوان اپنی تعلیم جاری رکھ پاتے ہیں یا بڑھتے قرضوں کے باعث اپنے خواب ادھورے چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے